• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شدید غصہ کی حالت میں طلاق

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!

حضرت مفتی صاحب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ دونوں خاوند اور بیوی کسی بات پر جھگڑ پڑے تھے۔ خاوند نے غصے میں نامعلوم طلاق کے الفاظ تین دفعہ کہے یا دو دفعہ کہے، اسے کچھ پتہ نہیں۔ لڑائی کے وقت اس کا بڑا بیٹا پاس تھا جس کی عمر تقریبا 25 سال ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ابو نے دو دفعہ طلاق کے الفاظ کہے تھے کہ میں نے ابو کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، تیسری دفعہ نہیں کہنے دیا۔ اس کے بیٹے کے علاوہ پانچ آدمی اور بھی گواہ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ دو طلاق دی ہے۔

میں اس تحریر کا حلف اٹھاتا ہوں۔ (خاوند بشارت علی)

باقی گواہ بھی حلف اٹھاتے ہیں کہ دو طلاق دی ہے۔

وضاحت مطلوب ہے کہ: غصہ کی تفصیل بتائیں۔

جوابِ وضاحت: جب شوہر کو غصہ آیا تو شدید غصے میں دیوار کے ساتھ سر مارتا رہا پھر زمین میں سر مارتا رہا پھر اسی حالت میں اس نے طلاق کے الفاظ بول دیئے، بعد میں اسے بہت افسوس ہوا اور صلح کی کوشش بھی کی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

توجیہ: طلاق دیتے وقت اگر غصہ اتنا شدید ہو کہ شوہر سے خلافِ عادت اقوال وافعال مثلا سردیوار میں مارنا وغیرہ صادر ہونے لگیں تو ایسے غصے میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔ مذکورہ صورت میں بھی طلاق دیتے وقت شوہر سے خلافِ عادت افعال یعنی دیوار میں سر مارنا پھر زمین پر سر مارنا صادر ہوئے ہیں لہٰذا ایسی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں۔

در مختار مع رد المحتار(439/4) میں ہے:

فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved