- فتوی نمبر: 35-14
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
Shangrila(شنگریلا ) کمپنی کیSmoky BBQ Sauce (سموکی بار بی کیو ساس)کھانا درست ہے ؟
جس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں :
Tomato Pulp, Sugar, Spices(Garlic, onion, Red Chili and Black Pepper, Salt, Vinegar, Stabilizers:Carboxymethyl Cellulose(E466) Xanthan Gum (E415),Citric Acid (E330),Soy Sauce,Natural Smoke Distillate as a flovoring Agent,Caramel Color (E150) ,Sodium Benzoate(E211), Potassium Metabisulphite(E224)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
Shangrila (شنگریلا ) کمپنی کی Smoky BBQ Sauce (سموکی بار بی کیو ساس) کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جز کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی لہذا جب تک مذکورہ مصنوع میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اس مصنوع کے کھانے کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ مصنوع کے پیکٹ پر سولہ(16)اجزائے ترکیبی مذکورہیں جن میں گیارہ (11) نباتاتی، ایک(1) معدنی اور چار(4) مصنوعی ہیں۔ان اجزاء کی تفصیل اور ان كا حکم درج ذیل ہے:
نباتاتی اجزاء:
1۔Tomato Pulp ٹوماٹو پلپ (ٹماٹر کا گاڑھا گودا )
2۔Sugarشوگر (چینی )
3۔Garlicگارلک (لہسن)
4۔Onionانیَن(پیاز)
5۔Red Chiliریڈ چلی (سرخ مرچ )
6۔Black Pepperبلیک پیپر (کالی مرچ)
7۔Vinegar وینیگر (سرکہ، مختلف پھلوں اور نباتات میں تخمیر کے عمل سے حاصل ہونے والے مادے کے
Acetic Acidایسیٹک ایسڈ میں تبدیل ہونے سے حاصل ہوتا ہے)
8۔Citric Acid سٹرک ایسیڈ (ایک ترش مادہ جو لیموں اور مالٹے وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے)
9۔Soy Sauceسویا ساس (سویا کی پھلیوں سے بنائی جانے والی ساس )
10۔ Natural Smoke Distillateنیچرل سموک ڈسٹلیٹ (لکڑی کے دھوئیں کے بخارات سے حاصل ہونے والا صاف مائع جس میں دھوئیں کا ذائقہ ہوتا ہے اور اشیاء میں دھوئیں کا ذائقہ لانے کے لیے ڈالا جاتا ہے)
11۔Caramel Color کیرامَل کلر (بھورا رنگ جو عموما شکر (کاربو ہائیڈریٹس) سے تیار کیا جاتا ہے)
نباتاتی اجزاء کا حکم:
ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور اور مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں اور سرکہ بھی تبدیل ماہیت کی وجہ سے حلال اور پاک ہے۔
معدنی اجزاء:
12۔Salt (نمک)
معدنی اجزاء کا حکم
ان کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب حلال اور پاک ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ جز نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذا یہ جزبھی حلال اور پاک ہے۔
مصنوعی اجزاء
13۔ Carboxymethyl Cellulose(E466)کاربوکسی میتھائل سیلولوز(ایک مصنوعی تیار کردہ مادہ جو قدرتی سیلولوز، پودوں کے ریشوں اور کپاس وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے اس کے بعد اس مادے کو کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہ مادہ اشیاء کو گاڑھا کرنے اور مستحکم رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔)
14۔ Xanthan Gumزینتھن گَم (ایک قسم کی گوند جو سبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل ہوتی ہے۔تجارتی سطح پر مکئی ،گندم اور سویا سے حاصل ہونے والےمادے کو کیمیاوی عمل سے گزار کر تیار کی جاتی ہے)
15۔ Sodium Benzoateسوڈیم بینزویٹ (بینزوی ایسڈ کا سوڈیم نمک جو مختلف کیمیاوی طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے)
16۔ Potassium Metabisulphiteپوٹاشیم میٹابائی سلفائیٹ(ہلکے پیلے رنگ کا کرسٹل نما مادہ جو مختلف کیمیاوی طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے)
مصنوعی اجزاء کا حکم
مصنوعی اجزاء بھی در حقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء(نباتاتی،معدنی اور حیوانی) میں سےکسی ایک سے یا ایک سے زائد سے ہی تیارہوتے ہیں ان سے ہٹ کرکسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے ، اس لیے مصنوعی اجزاءکا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس مصنوع میں ان میں سے کون سا مصنوعی فلیور استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ ان اجزاء کےکسی حیوان یا دیگر حرام اشیاء سے تیار ہونے کا یقین یا غالب گمان نہیں اس لیے جب تک ان مصنوعی اجزاء کے کسی حرام جانور یا کسی حرام شے سے حاصل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان مصنوعی اجزاء کو بھی حلال کہا جائے گا۔
نیز شنگریلا کمپنی نے حلال سرٹیفکیشن کے معتبر ادارے سنہا (SANHA) سے مذکورہ مصنوع کے لیے حلال سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا ہوا ہے۔
لہذا جب تک اس مصنوع میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک اسے حلال کہا جائے گا۔ واضح رہے کہ مصنوعی جز کے حیوان سے ماخوذ ہونے کا احتمال شبہۃ الشبہہ کا درجہ رکھتا ہے ا س لیے اس کا اعتبار نہ ہوگا۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
اسنی المطالب (1/18) میں ہے:
(قوله وتطهر خمر تخللت إلخ) لأن علة النجاسة والتحريم الإسكار وقد زالت ولأن العصير لا يتخلل إلا بعد التخمر فلو لم نقل بالطهارة لتعذر اتخاذ الخل وهو جائز إجماعا.
شرح مختصر الطحاوی للجصاص (6/ 387) میں ہے:
«فإن صارت خلاً: جاز بيعه، وحل الانتفاع به، سواء صارت بذاتها خلاً أو بعلاج»
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:600) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
امداد الفتاوی(96/4)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved