- فتوی نمبر: 34-265
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
شوہر کا بیان:
میں مسمی زید حلفا بیان کرتا ہوں کہ مورخہ 25/10/10 تقریبا ساڑھے گیارہ بجے گھر آیا ۔ امروز میں نے شراب پی رکھی تھی، گھر آیا تو اپنی بیوی سے بحث شروع ہو گئی جس کی وجہ سے میں غصے میں آگیا اور نشے میں بھی تھا جس کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ “میں آپ کو اپنی بیوی نہیں مانتا اور طلاق دیتا ہوں” یہ یاد نہیں ہے کہ کتنی دفعہ لفظ طلاق بولا تھا اس کے بعد میری بیوی نے کہا کہ “لکھ کر دو” یا میں نے کہا تھا کہ” میں لکھ دیتا ہوں” تو میری بیوی نے کاغذ دیا اور میں نے لکھ دیا کہ” میں آپ کو اپنے رشتہ ازدواج سے الگ کرتا ہوں” اور سائن کر دیے تو میری بیوی نے کہا کہ اب لکھ دیا ہے تو اس کو مکمل کرو تو کچھ دیر بعد میں نے مطلب اسی وقت بیوی کے کہنے پر دوبارہ سے لفظ” طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں” لکھ دیا اور بعد میں میری بیوی نے کہا کہ لکھ کر دو کہ آپ شادی نہ کرو گے تو میں نے دوبارہ سے لکھ دیا کہ میں ساری زندگی کبھی شادی نہ کروں گا اور پھر سے دستخط کر دیے اور کچھ دیر بعد ہی میں نے تقریبا 5/10 منٹ بعد کہا کہ میں نے آپ کو طلاق نہیں دی ہے میں ایسا جب بھی کروں گا ہوش وحواس میں کروں گا۔
بیوی کا بیان:
میرے شوہر رات کو آئے اور بستر پر لیٹ گئے میں نے پوچھا کیا بات ہے کچھ نہیں بولے بس اتنا کہا کہ پیچھے ہو جاؤ مجھے سونے دو میں نے کہا کیا بات ہے کچھ تو بتائیں پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں مرنا چاہتا ہوں میں مر کیوں نہیں جاتا میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں اس پر میں نے انہیں سمجھانے اور ان کی دل جوئی کرنے کی کوشش کی میں نے کہا میں آپ کی بیوی ہوں آپ کو جو پریشانی ہے آپ مجھ سے کہہ سکتے ہیں اس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں اپنی بیوی مانتا ہی نہیں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں میں نے کہا میں نہیں مانتی اس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں لکھ بھی دیتا ہوں اس پر مجھے بھی غصہ آیا اور میں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے لکھ دو میں نے انہیں کاغذ دیا اور انہوں نے لکھ دیا وہ لکھا ہوا صفحہ ان کے پاس ہے میں نے کہا کہ اب لکھا ہے تو مکمل الفاظ کے ساتھ لکھو جس پر انہوں نے لفظ (طلاق طلاق طلاق) دیتا ہوں بھی لکھ دیا پھر انہوں نے خود ہی کہا کہ میں دوبارہ کبھی شادی بھی نہیں کروں گا کہتی ہو تو یہ بھی لکھ دیتا ہوں جس پر انہوں نے صفحے پر یہ تحریر بھی درج کر دی اور آخر میں اپنے دستخط اور تاریخ بھی لکھی اس کے بعد کمرے سے باہر چلے گئے اور پانچ سے دس منٹ کے بعد واپس آکر بستر پر لیٹ گئے میں رونے لگی پھر انہوں نے کہا کہ میں نے تمہیں طلاق نہیں دی میں ایسا جب بھی کروں گا اپنی ہوش و حواس میں کروں گا میں نے کہا کہ وہ صفحہ جس پر آپ نے سب کچھ لکھ دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ نہیں لکھا مجھے نہیں یاد کہ میں نے تمہیں طلاق دی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں لہذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
شامی (4/432) میں ہے:
أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء
درمختار (4/443) میں ہے:
[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved