• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شہر سے 30 کلومیٹر دور واقع سکول میں جمعہ کا حکم

استفتاء

میں ایک سکول میں بطور امام و خطیب ہوں اس سکول کی کیفیت یہ ہے کہ یہاں تمام بچے رہائشی ہیں لیکن جب گرمیوں کی یا سردیوں کی چھٹیاں ہوئیں  تو تمام بچے گھروں کو چلے گئے بس بیس سے پچیس لوگ یہاں رہے وہ بھی گارڈ اور مالی وغیرہ  ان چھٹیوں کے دوران مسجد میں بھی جماعت نہیں ہوئی چھٹیاں تقریباً دو ماہ دس دن تک تھیں۔ سکول کی ایک جانب ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ایک گاؤں ہے اسی طرح دوسری طرف اور ان دونوں گاؤں میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے سکول بالکل ویرانے میں ہے اور اس میں عیدین  بھی نہیں ہوتی میرے حاضر ہونے سے پہلے یہاں ایک اسلامیات اور ترجمۃ القرآن کے ٹیچر تھے انہوں نے نماز جمعہ شروع کروا دی تھی ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہاں نماز جمعہ ادا ہو جاتی ہے؟

تنقیح:1۔مذکورہ اسکول شہر تونسہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور شہر کوٹ قیصرانی سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔اور اس کا  قریب والی بستیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2۔ مذکورہ اسکول پنجاب حکومت کی طرف سے تقریباً پنجاب کے ہر ضلع میں  ایک ، ایک “دانش اسکول” کے  نام سے موجود ہے یعنی اس کا تعلق پورے ضلع کیساتھ ہوتا ہے۔

3۔ دانش اسکول میں ضلع کے طلباء کو 80-85 فیصد ترجیح  دی جاتی ہے اس لیے اس شہر وضلع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے البتہ دیگر شہر والوں کے لیے بھی محدود نشستیں ہوتی ہیں۔

4۔ مذکورہ اسکول میں پڑھائی چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ جگہ میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز  نہیں ہے۔

توجیہ:جمعہ کی نماز صحیح ہونے کے لیے شہر یا بڑی بستی یا ان کی فناء شرط ہے ، بڑی بستی سے مراد ایسی بستی ہے جس میں مختلف محلے  ہوں اور وہاں ضروریات زندگی  کی چیزیں عام دستیاب ہوں اور فناء سے مراد وہ جگہ ہے جو شہر  یا بڑی  بستی کی ضروریات کے لیے تیار کی گئی ہو مثلا عید  گاہ ، سرکاری اسکول یا سرکاری ہسپتال وغیرہ  جبکہ  مذکورہ جگہ  شہر تونسہ شریف کی فناء نہیں ہے  کیونکہ مذکورہ اسکول صرف  شہر تونسہ  کے مصالح کے لیے نہیں ہے بلکہ پورے ضلع اور دیگر شہروں اور صوبوں کے مصالح میں بھی  استعمال ہوتا ہے  لہٰذا شہر تونسہ کی فناء نہ ہونے کی وجہ سے اس میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع (1/260) میں ہے:

‌وهل ‌تجوز ‌صلاة الجمعة خارج المصر منقطعا عن العمران أم لا؟ ذكر في الفتاوى رواية عن أبي يوسف أن الإمام إذا خرج يوم الجمعة مقدار ميل أو ميلين فحضرته الصلاة فصلى جاز، وقال بعضهم: لا تجوز الجمعة خارج المصر منقطعا عن العمران، وقال بعضهم على قول أبي حنيفة وأبي يوسف يجوز، وعلى قول محمد لا يجوز

‌وفيه أيضا: أما ‌المصر ‌الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها

ردالمحتار (3/6-9) میں ہے:

(‌ويشترط ‌لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر ….) وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود

وفي الشامية: وروى عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة ‌فيها ‌سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح

وفيه أيضا: وفي القنية: ‌صلاة ‌العيد ‌في ‌القرى تكره تحريما أي لأنه اشتغال بما لا يصح لأن المصر شرط الصحة

قوله: (صلاة العيد) ومثله الجمعة

وعبارة القهستاني ‌تقع ‌فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة ……… ألا ترى أن في الجواهر ‌لو ‌صلوا ‌في ‌القرى لزمهم أداء الظهر

رد المحتار(2/139) میں ہے:

فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار.

ہندیہ  (1/145) میں ہے:

‌ومن ‌لا ‌تجب ‌عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (5/41) میں ہے:

اگر قصبہ کی حدود میں جمعہ پڑھیں تو صحیح ہے، اور جو دیہات قصبہ سے متصل ہوں، ان میں جمعہ پڑھنا جائز نہیں۔ اور حدودِ قصبہ سے مراد فنائے شہر ہے، جس میں قصبہ کے کاروبار ہوتے ہیں، جیسے رکض خیل وغیرہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved