• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

سونے کے کانٹے کا ضمان

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ *** نے ایک شخص کا سونا بشکل کان کے کانٹے کی صورت میں غصب کیا بوقت غصب اس کی قیمت پندرہ صد روپے تھی اب *** اس کا ضمان ادا کرنا چاہتا ہے وہ ضمان کس صورت میں کرے۔قیمت کی صورت میں یا سونے کی صورت میں یا اس جیسا کانٹا بنوا کر دے جو *** نے غصب کیا تھا ۔

وضاحت: جو کانٹا غصب کیا تھا وہ اب موجود نہیں ہے اور اس کی بناوٹ بھی یاد نہیں ۔ *** کسی کے گھر گیا تھا وہاں سے ایک کانٹا اٹھا کر لے آیا جو کہ سامنے رکھا تھا اور یہ، واقعہ غالبا 2004میں پیش آیا تھا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں سونے یا کانٹے کی شکل میں اس کانٹے کا ضمان ادا کرنا درست نہیں۔ اس کانٹے کا ضمان ادا کرنے کی درست صورت یہ ہے کہ جس دن *** نے یہ کانٹا فروخت کیا اس دن اس کانٹے کی جتنی چاندی آتی تھی اتنی چاندی کانٹے والے کو ادا کرے ۔یا فروخت کرنے کے دن اگر اس کانٹے کی مارکیٹ ویلیو پندرہ سو روپے ہی تھی  تو پندرہ سو روپے کی اس وقت جتنی چاندی آتی تھی اتنی چاندی ضمان میں ادا کرے۔

محیط برھانی  (2/208) میں ہے:

استهلک قلب فضة انسان واحرقه یضمن قیمته مصوغاً لان الصیا غة فی مال الربا یضمن مع المثل بالاتلاف کالجودة ولا یمکن إيجاب قیمته مصوغاً من جنسه لانه رباً ولا یمکن ایجاب مثله مصوغاً لانه لیس من ذوات الامثال فتعین ایجاب القیمة مصوغاً من خلا ف الجنس. فقط و الله تعالى اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved