• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سونے،چاندی اور پلاڈیم سے بنی مردانہ انگوٹھی ، کف لنک اور بٹن کے استعمال کا حکم

استفتاء

1۔ مردانہ انگوٹھی، کف لنک اور بٹن بنانے کے لیے پلاڈیم (ایک دھات)سونا اور چاندی تینوں برابر مقدار میں استعمال کیے جاتے ہیں  کیا ان تینوں پر مشتمل مردانہ انگوٹھی ، کف لنک اور بٹن  کا بنانا اور استعمال کرنا جائز ہے؟

2۔ مردانہ انگوٹھی، کف لنک اور بٹن کے لیے چاندی اور پلاڈیم استعمال کیے جاتے ہیں البتہ پلاڈیم کی بنسبت چاندی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے کیا  ان کا بنانا اور استعمال کرنا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مردوں کے لیے صرف چاندی کی انگوٹھی(جس کا وزن ساڑھے چار ماشے سے کم ہو)پہننے کی اجازت ہے اس کے علاوہ کسی دھات کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے مذکورہ مردانہ  انگوٹھی میں اگرچہ چاندی موجود ہوتی ہے لیکن چونکہ وہ دوسری دو دھاتوں(سونا اور پلاڈیم)کے مقابلے میں مغلوب ہے اس لیے اس انگوٹھی کو چاندی کی انگوٹھی نہیں کہا جا سکتا جبکہ مرد کے لیے چاندی کے علاوہ کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں اور جس انگوٹھی کا مرد کے لیے استعمال جائز نہیں اسے مردانہ وضع میں بنانا بھی جائز نہیں۔

اسی طرح جو کف لنک یا بٹن مردانہ وضع کے ہوں ان کا بنانا اور ان کا استعمال بھی جائز نہیں کیونکہ ان میں سونے چاندی کے علاوہ جو دھات(پلاڈیم) موجود ہے وہ مغلوب ہے اس لیے یہ کف لنک اور بٹن سونے چاندی کے کہلائیں گے اور چونکہ یہ کف لنک اور بٹن علیحدہ ہوتے ہیں کپڑوں میں سلی ہوئی گھنڈی کی طرح نہیں ہوتے لہذا مرد کے لیے ان کا استعمال بھی جائز نہیں اور جن چیزوں کا مرد کے لیے استعمال جائز نہیں ان چیزوں کو مردانہ وضع پر بنانا اور بیچنا بھی جائز نہیں۔

2۔مذکورہ صورت میں چونکہ چاندی غالب ہے اس لیے اس صورت میں انگوٹھی،کف لنک اور بٹن چاندی کے شمار ہوں گے لہٰذا اس صورت میں اگر انگوٹھی ساڑھے چار ماشہ یا اس سے کم ہو تو اسے بنانا،بیچنا اور مردوں کا اسے استعمال کرنا سب جائز ہے باقی مردانہ وضع کے کف لنک اور بٹنوں کا نہ بنانا جائز ہے اور نہ بیچنا جائز ہے اور نہ استعمال کرنا جائز ہے وجوہات وہی ہیں جو نمبر 1کے ذیل میں گزریں۔

سنن ترمذی  (رقم  الحدیث:1785 ) میں ہے:

عن بريدة رضى الله تعالى عنه ان رجلا قال يا رسول الله من أي شيء أتخذه قال من ورق ولا تتمه مثقالا.

مرقاة شرح مشكاة (8/189)میں ہے:

ولا تتمه…أي ولا تكمل وزن الخاتم من الورق مثقالا قال ابن الملك تبعا للمظهر هذا نهي إرشاد إلى الورع فإن الأولى أن يكون الخاتم أقل من مثقال لأنه أبعد من السرف قلت وكذا أبعد من المخيلة.

شامی(9/597)میں ہے:

(ولايزيده علي مثقال)وقيل لايبلغ به المثقال ذخيرة.اقول يؤيده نص الحديث السابق من قوله عليه السلام ولاتتمه مثقالاً.

الدر المختار  (9/593)میں ہے:

(ولا يتختم) الا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر…… وذهب وحديد) وصفر ورصاص وزجاج وغيرها لما مر فاذا ثبت كراهة لبسها لتختم ثبت كراهة بيعها وصيغها لما فيه من الاعانة على ما لا يجوز.

ہدایہ (1/ 211)میں ہے:

وإذا كان الغالب على الورق الفضة فهو في حكم الفضة وإذا كان الغالب عليها الغش فهو في حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمته نصابا ” لأن الدراهم لا تخلو عن قليل غش لأنها لا تنطبع إلا به وتخلو عن الكثير فجعلنا الغلبة فاصلة وهو أن يزيد على النصف اعتبارا للحقيقة.

الدر المختار (3/274-273) میں ہے:

(‌وغالب ‌الفضة والذهب فضة وذهب، وما غلب غشه) منهما (يقوم) كالعروض …. …….. (واختلف في) الغش (المساوي والمختار لزومها احتياطا) خانية.ولذا لاتباع إلا وزنا.وأما الذهب المخلوط بفضة: فإن غلب الذهب فذهب، وإلا فإن بلغ الذهب أو الفضة نصابه وجبت.

امداد الفتاویٰ (4/129) میں ہے:

سوال: آپ کی کتاب صفائی معاملات مطبوعہ رزاقی کانپور صفحہ 34پر بیان بعضے متفرق حلال وحرام چیزوں کے بیان میں یہ مسئلہ ہے کہ چاندی سونے کے بوتام یعنی بٹن اور گھنڈی لگانا جائز ہے ۔ فقط

اس مسئلہ میں آپ سے یہ دریافت کرتا ہوں کہ واقعی سونے چاندی کے بوتام لگانا جائز ہے یا اس کتاب میں کاتب سے غلطی ہوئی ہے؟آپ اس کا خلاصہ تحریر فرمائیں اگر جائز ہے اس کی تشریح ہوتو بہت بہتر ہو تا کہ اطمینان ہو۔

جواب:کاتب کی تو غلطی نہیں ہے،میں نے ہی لکھا ہے،اور اس میں کسی قدر قیاس سے بھی کام لیا ہے اصل مسئلہ جو درمختار وغیرہ میں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ولا بأس بازرار الذهب. یہ ازرار جمع زر کی ہے اور زر کا ترجمہ ہے گھنڈی اور علت لکھی ہے لانه تابع للباس پس اس علت کے اشتراک سے زر کے مفہوم میں توسع کر کے بوتام کو شامل سمجھا گیا ہے،اتنا تصرف اس میں قیاس کا ہے،بس یہ حقیقت ہے اس فتویٰ کی مگر چند روز سے خود مجھ کو اس میں تردد ہوگیا،وجہ تردد یہ ہے کہ ایک بڑے محقق کا قول اس باب میں یہ سنا ہے کہ زر سے مراد گھنڈی ہے جو کلابتوں کے تاروں سے بنی ہوئی ہو اور کپڑے میں سلی ہوئی ہو،بوتام مراد نہیں اور پوری تابع ایسی ہی گھنڈی ہے،پس بہتر یہ ہے کہ اور علماء سے تحقیق مزید کر لیجیئے۔

امداد الفتاویٰ (4/131) میں ہے:

مدت ہوئی حضرت مولانا قاری عبد الرحمن پانی پتی رحمہ اللہ کا قول کہ اس ازرار سے مراد کلابتوں کی گھنڈی ہے،بٹن اس میں داخل نہیں،ان کے صاحبزادے قاری عبد السلام مرحوم سے سن کر صفائی معاملات کے اس مسئلہ میں مجھ کو تردد ہوگیا ہے،اور اس وقت احتیاط کے درجے میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔

سونے چاندی اور ان کے زیورات کے اسلامی احکام  مؤلفہ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب ؒ(ص:97) میں ہے:

سونے کے بٹن دو طرح کے ہوتے ہیں :

1۔ جو  کرتے سے الگ ہوتے ہیں پھر یا تو علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں یا تین چار بٹن سونے کی ایک زنجیر کے ساتھ جوڑے ہوتے ہیں لیکن کرتے سے علیحدہ ہوتے ہیں۔

2۔ریشمی دھاگوں اور سونے کی تاروں سے گول گھنڈی بنائی جاتی ہے اور وہ کرتے کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہے جس کو اس طرح استعمال کرتے ہیں جیسے کہ آج کل عام بٹن استعمال کیے جاتے ہیں۔

 پہلی قسم کے بٹن زیب و زینت کی نیت سے عورتیں تو استعمال کر سکتی ہیں لیکن مردوں کے لیے ان کا استعمال درست نہیں۔

دوسری قسم کے بٹن( گھنڈی )مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

امداد الفتاویٰ(4/128) میں ہے:

سوال:پاندان و غیره یعنی کٹوره و پلنگ و اگالدان ظروف بدری میں استعمال کیسا ہے ؟

الجواب، شرعا اعتبار غالب کا ہے، پس اگر بدری چاندی یا سونا غالب ہے  تو اس کا استعمال نا جائز ہے ، اور اگر مغلوب ہو تو جائز، اور اگر دونوں مساوی ہیں تو احتیاط عدم جواز میں ہے۔

وغالب الفضة والذهب فضة وذهب وما غلب عنه يقوم واختلف في غش المساوي والمختار لزومها احتياطا قاله صاحب الدر المختار في احكام الزكوة قلت لما جعل الحکم للغالب واوجبت الزکوۃ فيه فلا بد من ان یکون الحکم له فی کل الاحکام وکذا المغلوب والمساوی والله اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved