• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سنت كے مطابق آستین اور قمیص کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے؟

استفتاء

1۔  سنت کے مطابق آستین کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے؟

2۔سنت کے مطابق  قمیص کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے؟

3۔ نیز یہ بتا دیں کہ طریزوں  والا کرتہ پہننا سنت کے مطابق ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔سنت کے مطابق آستین کی لمبائی پہنچے (گٹ) تک ہونی چاہیے۔

2۔نصف پنڈلی تک ہونی چاہیے اس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ حدیث میں ہے  کہ مومن کی ازار/ تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہیے اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ قمیص بھی بدرجہ اولی زیادہ سے زیادہ نصف پنڈلی تک ہونی چاہیے اس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

3۔اس کی صراحت تو نہیں ملی کہ طریزوں والا کرتہ سنت ہے تاہم کتب فقہ میں کرتے میں طریزوں کا ذکر ملتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طریزوں والے کرتے کا اسلاف میں معمول تھا۔

الشمائل المحمدیۃ للترمذی (ص:531) میں ہے:

عن أسماء بنت يزيد قالت : ‌كان ‌كم ‌قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الرسغ

جمع الوسائل فی شرح الشمائل (1/173) میں ہے:

والمعنى ‌إذا ‌جاوز الإزار الكعبين فقد خالفت السنة، وقال الحنفي: يجب أن لا يصل الإزار إلى الكعبين انتهى. وهو غير صحيح ; لأن حديث أبي هريرة المخرج في البخاري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار، يدل على أن الإسبال إلى الكعبين جائز، لكن ما أسفل منه ممنوع ; ولذا قال النووي: القدر المستحب فيما ينزل إليه طرف الإزار هو نصف الساق، والجائز بلا كراهة ما تحته إلى الكعبين، وما نزل من الكعبين فإن كان للخيلاء فممنوع منع تحريم، وإلا فمنع تنزيه، فيحمل حديث حذيفة هذا على المبالغة في المنع من الإسبال إلى الكعبين ; لئلا ينجر إلى ما تحت الكعبين على وزان قوله صلى الله عليه وسلم: «كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يقع فيه» ، ويفهم منه بطريق الأولى أن الاسترخاء إلى ما وراء الكعبين أشد كراهة، وينبغي أن يعلم أن في معنى الإزار القميص، وسائر الملبوسات

مراقی الفلاح (ص:216) میں ہے:

‌الدخريص: ما يضاف في جوانب ثوب الحي يتبع أسفله تسهيلا للمشي

المغرب (1/161) میں ہے:

(‌دخريص) ‌القميص ما يوسع به من الشعب وقد يقال دخرص ودخرصة والجمع دخاريص

لسان العرب (7/35) میں ہے:

‌الدخريص من الثوب ……….. وهو ما يوصل به البدن ليوسعه

امداد الاحکام(1/173)میں ہے:

سوال: کیا کر کرتے کی آستین کی لمبائی ہاتھ کے گٹے تک ہونی چاہیے یا کہ گٹا بالکل چھپ جانا چاہیے؟

الجواب: قال الملا علي القاري في شرح الشمائل: قال الجزري: فيه دليل على ‌أن ‌السنة ‌أن ‌لا ‌يتجاوز كم القميص الرسغ، وأما غير القميص فقالوا السنة فيه لا يتجاوز رءوس الأصابع من جبة وغيرها. وفي شرح الشمائل للمناوی وأخرج سعید بن المنصور والبيهقي عن علي رضی الله عنه أنه کان یلبس القمیص ثم یمد الکم حتی إذا بلغ الأصابع قطع ما فضل ویقول: لافضل للکمین علی الأصابع الخ

ان عبارت سے معلوم ہوا کہ کرتہ کی آستین گٹے تک ہونی چاہیے اور چونکہ غایہ اکثر مغیہ سے خارج ہوتی ہے اس لیے گٹے کا کھلا رہنا بہتر ہے اور ہاتھ کی انگلیوں سے آستین کا بڑھا ہونا خلاف سنت ہے۔

خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی(57)میں ہے:

ملا علی قاری نے دمیاطی سے نقل کیا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ سوت کا بنا ہوا تھا زیادہ لمبا بھی نہ تھا اور اس کی آستین بھی زیادہ لمبی نہ تھی………. مناوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ زیادہ لمبا نہ ہوتا تھا نہ اس کی آستینیں لمبی ہوتی تھیں. دوسری حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور کا کرتہ ٹخنوں سے اونچا ہوتا تھا ۔ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved