• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سورة الكوثر میں “شانئك”کو”شأنئك”الف پر ہمزہ کے ساتھ پڑھنے سے نماز کا حکم

استفتاء

اگر دوران نماز سورۃ الکوثر کی تلاوت کے دوران “شانئك“یعنی الف کی جگہ”شأنئك“ہمزہ کے  ساتھ پڑھ لیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں نماز ہوگئی۔

توجیہ: اول تو مذکورہ صورت خطا فی الاعراب کی ہے اور خطا فی الاعراب کی صورت میں متاخرین کا اتفاق ہے کہ اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی،اور اگر اسے حرف کی تبدیلی بھی کہیں تو اگر دونوں حرف قریب المخرج ہوں تو پھر بھی نماز فاسد نہیں ہوتی اور الف مقصورہ اور ہمزہ قریب المخرج ہیں حتی کہ بعض کے نزدیک تو یہ دونوں الگ الگ حرف ہی نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حرف ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں فسادِ نماز کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔

المقتضب للمبرد (1/ 192)میں ہے:

للحلق ثلاثة مخارج فمن أقصى الحلق مخرج الهمزة وهي أبعد الحروف ويليها في البعد مخرج الهاء والألف هاوية هناك والمخرج الثاني من الحلق مخرج الحاء والعين والمخرج الثالث الذي هو أدنى حروف الحلق إلى الفم مما يلي الحلق مخرج الخاء والغين.

شرح طیبۃ النشر لابن الجزری (ص:27)میں ہے:

(مخارج الحروف) سبعة عشر … على الّذي يختاره من اختبر

اختلف ‌في ‌عدد ‌مخارج ‌الحروف؛ فالصحيح عند الناظم وجماعة من المحققين سبعة عشرة مخرجا وهو الذي اختير من حيث الاختبار. وقال كثير من النحاة والقراء ستة عشر لإسقاطهم مخرج الجوفية وهي حروف المد واللين؛ فجعلوا مخرج الألف من أقصى الحلق والواو والياء من مخرج المتحركتين؛ وذهب آخرون إلى أنها أربعة عشر لإسقاطهم مخرج النون واللام والراء فجعلوها من مخرج واحد، وقوله من اختبر: أي من طلب خبر ذلك ومعرفته تحقيقا.

شامی(2/473)میں ہے:

وأما المتأخرون كابن مقاتل وابن سلام وإسماعيل الزاهد وأبي بكر البلخي والهندواني وابن الفضل والحلواني، فاتفقوا على أن الخطأ في الإعراب لا يفسد مطلقا ولو اعتقاده كفرا لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب. قال قاضي خان: وما قال المتأخرون أوسع، وما قاله المتقدمون أحوط؛ وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف، فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد، وإن لم يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى.

وبعضهم يعتبر عسر الفصل بين الحرفين وعدمه. وبعضهم قرب المخرج وعدمه، ولكن الفروع غير منضبطة على شيء من ذلك فالأولى الأخذ فيه بقول المتقدمين لانضباط قواعدهم وكون قولهم أحوط وأكثر الفروع المذكورة في الفتاوى منزلة عليه اهـ ونحوه في الفتح سيأتي تمامه.

جمال القرآن(ص:8)میں ہے:

مخرج :ا۔جوفِ دہن یعنی منہ کے اندر کا خلا: اس سے یہ حروف نکلتے ہیں : “و” جب کہ ساکن ہو اور اس سے پہلے حرف پر پیش ہو ، جیسے: الْمَغْضُوبِ“ی” جب کہ ساکن ہو اور اس سے پہلے زیر ہو جیسے:نستعين“ا” جب کہ ساکن بے جھلکے ہو اور اس سے پہلے زبر ہو، جیسے صراط اور ساکن بے جھٹکے اس لیے کہا کہ زبر، زیر، پیش والا اور اسی طرح  ساکن جھلکے والا ہمزہ ہوتا ہے، اگر چہ عام لوگ اس کو بھی الف کہتے ہیں، جیسے: الحمد کے شروع میں جو الف ہے یا بأس کے بیچ میں  جو الف ہے، یہ واقع میں ہمزہ ہے، اور اس تمام کتاب میں ایسے دونوں الفوں کو ہمزہ ہی کہا جائے گا ، یاد رکھنا۔

فوائدِ مکیہ(ص:15)میں ہے:

مخارج حروف کے چودہ ہیں:

(1)اقصی حلق ،اس سے ا،ء،ہ نکلتے ہیں۔۔۔الخ

حاشیۃ فوائدِ مکیہ مسمی بہ “حواشی مرضیۃ”علامہ قاری ابنِ ضیاء محب الدین احمد(ص:15)میں ہے:

فراء کے مذہب کی بنا پر الف اور ہمزہ کا مخرج ایک ہے ، اس وجہ سے الف کو بھی ہمزہ کے ساتھ بیان فرمایا چونکہ الف مخرجِ مقدر جوفِ حلق سے نکلتا ہے اس وجہ سے اس کو حلقیہ نہیں کہتے بلکہ ” جو فیہ اور ہوائیہ کہتے ہیں ۔ حروف حلقیہ : ان حروف کو کہتے ہیں جو بالاتفاق حلق کے مخرجِ محقق سے ادا ہوتے ہیں۔

۔۔۔ فائدہ: یہ اختلاف مخارج ۱۴، ۱۶، ۱۷ کا حقیقی اختلاف نہیں ہے۔ فراء نے (ل، ن، د) میں قرب کا لحاظ کر کے ایک کہہ دیا۔ سیبویہ اور خلیل نے قرب کا لحاظ نہ کر کے الگ مخرج ہر ایک کا بیان کیا، جیسا کہ محققین کا قول ہے کہ ہر حرف کا مخرج علیحدہ ہے مگر نہایت قرب کی وجہ سے ایک شمار کیا جاتا ہے علی ہذا القیاس حروف مدہ کا مخرج خلیل نے جوف کہا ہے، فراء وسیبویہ نے مدہ اور غیر مدہ کا ایک ہی مخرج کہا ہے مخرج جوف زائد نہیں کیا۔ اس میں تحقیق یہ ہے کہ الف بالکل ہوائی حرف ہے اس میں اعتماد صوت کا کسی جزء معین پر نہیں ہوتا، اسی واسطے فراء وسیبویہ نےمبداء مخارج یعنی اقصی حلق اس کا مخرج کہا ہے اور حرف (و) اور (ی) جب مدہ ہوں تو اس وقت اعتماد صوت کا لسان و شفتین پر نہایت ضعیف ہوتا ہے مگر ہوتا ضرور ہے، تو فراء وسیبویہ نے اس اعتماد ضعیف کی وجہ سے مدہ اور غیر مدہ کے مخرج میں فرق نہیں کیا، خلیل نے ضعف وقوت کا لحاظ کر کے ایک مخرج جوف زائد کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved