- فتوی نمبر: 34-374
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا تحنیک کے عمل کے لیے بچے کی عمر کی کوئی مخصوص حد متعین ہے ؟ یعنی اگر بچہ کچھ عمر کو پہنچ جائے تو پھر کیا تحنیک کا عمل نہیں کیا جا سکتا ؟ یا یہ عمل عمر کی کسی قید کے بغیر قابل عمل ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تحنیک کا وقت بچے کی پیدائش کے بعد کسی اور چیز کے کھانے پینے سے پہلے کا وقت ہے البتہ اگرکسی وجہ سے بچے کو دوا یا دودھ پِلانا پڑ جائے تو اس کے بعد بھی تحنیک کی جا سکتی ہے لیکن جتنی جلدی ہوسکے اتنی جلدی تحنیک کا عمل کرلیا جائے بلامجبوری کے بچے کو کچھ کھلا پلادینے کے بعد تحنیک کا وقت نہیں رہتا۔
توجیہ: تحنیک سے مقصود یہ ہے کہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے ایسی چیز جائے جو میٹھی ہو اور کسی نیک آدمی کی چپائی ہوئی ہو یا اس کی جوٹھی ہو تاکہ اس نیک آدمی کی نیکی کا اثر اور میٹھی چیز کے مٹھاس کا اثر اس بچے کی زبان اور زندگی پر پڑے۔ اس لیے کوئی اور چیز کھلانے پلانے سے پہلے تحنیک ہونی چاہیے۔
التوضيح لشرح الجامع الصحيح ، لابن ملقن ،ت: ۷۲۳ھ (26/ 294) میں ہے:
وأما التحنيك فساعة يولد
شرح النووی على مسلم (14/ 123) میں ہے:
«وفي هذا الحديث فوائد منها تحنيك المولود عند ولادته وهو سنة بالإجماع»
شرح صحيح البخاری ، للاصبہانی (3/ 402) میں ہے:
«(التحنيك): أن يمضغ التمر، ثم يلصق بحنك الصبي حين يولد، يقال: حنكت الصبي تحنيكا، أرادوا أن يدخل جوفه أول طعام يخالطه رزق رسول الله صلى الله عليه وسلم تبركا به.»
عمدة القاری شرح صحيح البخاری (21/ 84) میں ہے:
«والحكم الثاني: تحنيك المولود، وقد ذكرناه. فإن قلت: ما الحكمة في تحنيكه؟ قلت: قال بعضهم: يصنع ذلك بالصبي ليتمرن على الأكل فيقوى عليه، فيا سبحان الله ما أبرد هذا الكلام، وأين وقت الأكل من وقت التحنيك؟ وهو حين يولد والأكل غالبا بعد سنتين أو أقل أو أكثر؟ والحكمة فيه أنه يتفاءل له بالإيمان لأن التمر ثمرة الشجرة التي شبهها رسول الله صلى الله عليه وسلم، بالمؤمن، وبحلاوته أيضا، ولا سيما إذا كان المحنك من أهل الفضل والعلماء والصالحين لأنه يصل إلى جوف المولود من ريقهم ألا ترى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لما حنك عبد الله بن الزبير حاز من الفضائل والكمالات ما لا يوصف؟ وكان قارئا للقرآن عفيفا في الإسلام، وكذلك عبد الله بن أبي طلحة كان من أهل العلم والفضل والتقدم في الخير ببركة ريقه المبارك»
فتاوی محمودیہ (26/409) میں ہے :
سوال:-تحنیک کسے کہتے ہیں اس کا طریقہ کیا ہے ، آیاسنت ہے یامستحب ہے ؟
الجواب: تحنیک مستحب ہے ،اس کا طریقہ ہے کہ میٹھی چیز جیسے ترکھجو ر یاشہد اس کے تالو یازبان میں لگادیاجائے ،چاہے پہلے اپنے منھ میں کھجور لیکر اس کو نرم کرکے لعاب سے بچے کی زبان اورتالو پرلگادیاجائے تاکہ بچہ کی زبان میں شرینی ہوتلخ نہ ہو، یعنی اس کی زبان سے بڑے نر م اور شیرینی الفاظ ادا ہوں سخت اورتلخ الفاظ نہ بولے بہتر یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کی زبان پر تحنیک کاذائقہ پہنچے اگراس کا موقع نہ ہوبلکہ پہلے دوا یا کوئی چیز یادودھ پلادیا گیا، پھر تحنیک کردی جائے تب بھی مضائقہ نہیں ۔
فتاوی رحیمیہ (3/176) میں ہے :
تحنیک کا مطلب یہ ہے کہ ہوسکے تو بچہ کو کسی بزرگ کے پاس لے جائیں کہ وہ بزرگ بچہ کے حق میں صلاح و فلاح کی دعاکریں ،اور کھجوروغیرہ کوئی میٹھی چیز چبا کر بچہ کے تالوں میں مل دیں ، کو شش یہ ہو کہ بچہ کے پیٹ میں سب سے پہلے یہی چیز جائے ، صحابہ ٔ کرام رضوان اﷲعلیہم اجمعین اپنے بچوں کو تحنیک اوربرکت کی دعاء کرانے کے لئے حضور اکرمﷺکے پاس لایا کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved