• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

تاخیر سے آنے کی پالیسی

استفتاء

**الیکٹرک میں الیکٹریشن، الیکٹرک اور ہارڈ ویئر سے متعلق سامان مثلاً پنکھے، بجلی کے بٹن، انرجی سیور LED بلب، تار کوائل شپ (ایک خاص قسم کی مہنگی تار) رائونڈشپ تار (خاص قسم کی تار جو بنڈل کی شکل میں ہوتی ہے اور کسٹمر کی ضرورت کے مطابق اس کو بنڈل سے کاٹ کر دی جاتی ہے) وغیرہ کی خریداری کی جاتی ہے۔

** میں ملازمین کے تاخیر سے آنے پر کسی قسم کی کوئی کٹوتی اور سزا وغیرہ کی پالیسی نہیں ہے۔ بس ملازمین کی منت سماجت کر کے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح جو ملازمین اوقات کی پابندی کرتے ہیں ان کو کوئی اضافی الائونس بھی نہیں دیا جاتا۔ ایک بار پابندی کا الائونس جاری کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ملازمین کے آپس کے  حسد بڑھنے کی وجہ سے مزید آگے نہیں چل سکا کیونکہ ملازمین ایک دوسرے سے بحث کرتے تھے کہ کام تو دونوں نے ایک جیسا کیا ہے لیکن الائونس صرف آپ کو ملا ہے اس لیے وہ الائونس بند کر دیا گیا۔

ملازمین کی تاخیر کے خلاف کوئی ایسی شرعی پالیسی کی رہنمائی کیجئے جو قابل عمل بھی ہو۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ملازمین کے تاخیر سے آنے کی صورت میں یہ پالیسی بنائی جا سکتی ہے کہ ان کی تنخواہ کو ٹائم پر تقسیم کیا جائے اور پہلے پانچ منٹ یا آدھے گھنٹے کی تنخواہ زیادہ مقرر کر دی جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وقت پر آنے والوں کو الائونس دیے جائیں۔ ایسی صورت میں وقت پر نہ آنے والوں کا بلاوجہ بحث کرنا شرعاً درست نہیں۔

(۱) سنن الامام الترمذی: ص: ۳/۲۸ (رقم الحدیث ۱۳۵۲، باب ماذکر فی الصلح بین الناس)میں ہے:

قال النبيﷺ المسلمون علي شروطهم الا شرطًا حرّم حلالاً أو أحل حَراماً۔

(۲)           مجلۃ الاحکام العدلیۃ تحت المادۃ (۴۲۵، ص ۸۲) میں ہے:

الأجير الخاص يستحق الأجرة اذا کان في مدة الأجارة حاضراً للعمل ولايشترط عمله بالفعل، ولکن ليس له ان يمتنع من العمل و إذا امتنع فلا يٰستحق الاجرة۔

(۳)           درر الحکام لعلی حیدر تحت المادۃ ۴۲۵، ص (۱/۴۵۸) میں ہے:

أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلک البعض من الأجرة۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved