- فتوی نمبر: 32-126
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
مفتی صاحب ہماری کپڑے کی دکان ہے، ہمیں اس کے معاملات پر شریعت کے مطابق آپ سے رہنمائی درکار ہے۔
دکان اور کاروبار کی نوعیت:
مفتی صاحب ہماری دکان پر 16 سے 17 لوگ کام کرتے ہیں اور دکان دوپہر 12:30 بجے کھلتی ہے اور رات 9:00 بجے بند ہو جاتی ہے۔
دکان کھلنے کے بعد تقریباً 45 منٹ تک سب ملازمین مل کر دکان کا سامان لگاتے ہیں اور اسی طرح رات کو بند کرنے کے وقت سب ملازمین مل کر دکان بند کرواتے ہیں۔ ان کاموں میں کافی مشکل اور وزنی کام بھی شامل ہوتے ہیں جیسے شٹروں کی پتریاں اٹھانا، صفائی کرنا، مال کو صحیح کر کے لگانا، آرڈر کے کاموں کی تیاری کروانا، سلائی رنگائی وغیرہ کے کاموں کو دیکھنا وغیرہ ۔ اسی طرح رات کو بند کرتے وقت بھی کچھ اسی نوعیت کے کام ہوتے ہیں۔یعنی ان دو اوقات میں ملازمین اضافی کام کرتے ہیں (جو کہ ان کے کام کا ہی حصہ ہے) جبکہ باقی دن کام کی نوعیت کافی آسان ہوتی ہے اور گاہک کے آنے جانے پر منحصر ہوتی ہے، اور بعض اوقات سارا سارا دن کوئی کام نہیں بھی کرنا پڑتا۔
ملازمین کو تنخواہوں کے علاوہ ہفتہ والے دن 100 روپے اضافی دیے جاتے ہیں اور سیلز مین کی سیل کی کمیشن میں سے کمیشن بھی دی جاتی ہے۔ کمیشن مقرر کرتے ہوئے سیلز مین کی تنخواہ کمیشن کی وجہ سے کم مقررکی جاتی ہے جبکہ ہیلپر کی تنخواہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔تنخواہوں کا حساب کرتے وقت مہینے کو 30 دن کا گنا جاتا ہے۔ یعنی جو تنخواہ مہینے کی مقرر ہے اس میں سے اگر کسی کی 3 چھٹیاں کٹنی ہوں اور تنخواہ اس کی 30000 ہو تو مہینہ چاہے فروری کا ہو یا مارچ کا اس کے 3000 ہی کٹتے ہیں۔
مندرجہ بالا تمہید کے پیش نظر درج ذیل مسائل میں رہنمائی درکار ہے:
1۔جو ملازمین خاص کر ہیلپر لیٹ آتے ہیں یا جلدی جاتے ہیں تو ان کی حاضری آدھی لگائی جاتی ہے، اور وہ بھی خاص کر ان ملازمین کی جو عادتاً لیٹ آتے ہیں اور بعض اوقات بہت زیادہ لیٹ آتے ہیں۔ اور جو وقت پر آنے والے ملازمین ہوتے ہیں ان کو رعایت دیدی جاتی ہے۔
(اگر ملازمین زیادہ لیٹ آتے ہیں تو مالک کو اضافی ملازمین رکھنے پڑتے ہیں یا جو دوسرے ملازمین ہیں ان کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔) اور اگر ملازم دکان کے اوقات میں گھنٹے دو گھنٹے کی چھٹی لے کر جاتا ہے تو اس کو جانے دیا جاتا ہے وہ بھی بغیر کسی کٹوتی کے بشرطیکہ وہ دکان بند ہونے سے پہلے آ جائے۔
چھٹی کرنے والے ہیلپر کے 100 روپے ہفتے والے کاٹے جاتے ہیں اور اس ہفتے سیلز مین کی کمیشن میں اس ملازم کا جو حصہ ہوتا ہے وہ بھی ان کو نہیں دیا جاتا، اور ان کا حصہ ان ملازمین کو دیا جاتا ہے جو پورا ہفتہ ریگولر آئے ہوتے ہیں۔ مہینے میں ایک چھٹی کی رعایت دی جاتی ہے، اور اگر کوئی ملازم پیر کی یا ہفتہ کی چھٹی کرے تو اس کی اتوار کی چھٹی بھی کاٹی جاتی ہے یا بعض اوقات اتوار کی آدھی چھٹی کاٹی جاتی ہے۔ (اتوار کو دکان بند ہوتی ہے۔)
اگر کوئی ملازم حد سے زیادہ چھٹیاں کرنا شروع کردے، جیسے مہینے میں آئے ہی صرف 12 دن یا 13 دن تو اس کو دیہاڑی کے حساب سے پیسے دیے جاتے ہیں یعنی اتواریں یا کوئی اور سرکاری چھٹی مہینے میں آئی ہوئی ہو تو ان کے پیسے اسے نہیں دیے جاتے۔ اور صرف 12 دن کے 12000 اور 13 دن کے 13000 دیے جاتے ہیں۔اور جو ملازمین جلدی آ ہی نہیں سکتے اور انہوں نے پہلے ہی بتایا ہوا ہوتا ہے ان کی تنخواہیں پہلے ہی کم مقرر کی جاتی ہیں۔
مفتی صاحب کیا ان میں کوئی ایسی بات ہے جس کو شرعی اعتبار سے درست کرنے کی ضرورت ہو، کیونکہ تنگ کرنے والے ملازمین تھوڑی سی رعایت کا بھی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
نوٹ: ملازمین کو ملازمت میں رکھنے سے پہلے ہی تمام اصول و ضوابط بتا دیے جاتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں صرف اتنی کٹوتی کی اجازت ہے جتنی ملاز م نے تاخیر کی ہے، تاخیر سے زیادہ کٹوتی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ یہ طریقہ اختیار کرلیں کہ ملازم کی روزانہ کی اجرت کو گھنٹوں پر تقسیم کرکے پہلے گھنٹے کی اجرت زیادہ مقرر کردیں تو اس صورت میں جو ملازم تاخیر سے آئے گا اس کی اجرت خود بخود زیادہ کٹے گی اور یہ شرعاً بھی جائز ہوگا۔ تاہم اس صورت میں اگر یہ ملازم پہلے گھنٹے میں کام کرکے چلا جائے تو اس کو اس گھنٹے کی جو زائد اجرت مقرر کی ہے وہ بھی دینی پڑے گی۔
2۔ملازم جن چھٹیوں کا معاہدے کے مطابق حقدار ہے ان چھٹیوں کو غیر حاضری میں شمار کرکے ان کی کٹوتی کرنا جائز نہیں ہےلہٰذا جن ملازمین کو ماہانہ بنیاد پر رکھا گیا ہے ان کی تنخواہ ماہانہ بنیاد پر ہی دی جانی چاہیے اور ماہانہ استحقاقی چھٹیوں کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved