- فتوی نمبر: 31-307
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
شوہر کا بیان:
میرا نام زید ہے۔ میں ضلع ****کے گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں ۔سرف والی فیکٹری میں ملازم ہوں ہمارے گاؤں سے اکثر ہمارے کزن بھی کام کے لیے آئے ہوئے تھے، میں گزشتہ چار پانچ سال سے اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہا ہوں، اس عرصہ میں میرا اور میری بیوی کا کزن جس کا نام خالد ہے اس سے میری بیوی کا تعلق تھوڑا نازیبا ہو رہا تھا۔ بیوی اور کزن کی وجہ سے میری لڑائی ہوتی رہتی تھی اور میری بیوی بار بار مجھ سے طلاق کا مطالبہ کرتی رہتی تھی اسی اثناء میں میری بیوی نے مشہور کر دیا کہ میرا نکاح خالد سے ہو گیا ہے تو مجھے طلاق دے کر فارغ کر، جب میں کام پر ہوتا تھا تو فون کر کے کہتی تھی کہ مجھے طلاق دے اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک دن میں نے کہہ دیا کہ میں “آکر تجھے طلاق دیتا ہوں” اور آپ کے امی ابو سے کہہ کر میں آپ کو گھر بھیج دیتا ہوں اور پھر بیوی اپنے گاؤں چلی گئی لیکن پھر ہفتہ ہو گیا اس کے گھر والوں نے واپس میرے پاس بھیج دیا ہے۔
بیوی کا بیان:
میرا نام فاطمہ ہے میرا شوہر جس کا نام زید ہے اس نے مجھے طلاق دے دی ہے لڑائی جھگڑا بہت ہوتا تھا۔میں نے خود ہی مشہور کر دیا کہ میرا میرے کزن خالد کے ساتھ نکاح ہو گیا ہے جبکہ ہم نے کسی مولوی سے نکاح نہیں پڑھوایا تھا، میں زید سے بار بار طلاق کا مطالبہ کرتی رہتی تھی اس عرصے کو سال، دو سال لگ گئے۔ ہماری لڑائی روز بروز ہوتی رہتی تھی۔میں چاہتی تھی کہ زید مجھے طلاق دے اور میں خالد کے پاس چلی جاؤں۔ اس (خالد ) نے بھی سارے گاؤں میں مشہور کر دیا کہ میری بیوی فاطمہ ہے اور میرا نکاح فاطمہ کے ساتھ ہو گیا ہے ہمارے پاس ثبوت کوئی نہ تھا کیونکہ درحقیقت نکاح نہیں ہوا تھا ایک سال میں میکے میں بیٹھی رہی میرے اماں ، ابا نے دوبارہ مجھے زید کے پاس گاؤں والے گھر میں بھیج دیا جہاں میرا سسرال ہے آج اس بات کو تین سال ہو گئے ہیں میرے شوہر نے مجھے تین بار طلاق دے دی تھی جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔آپ کے خاوند نے آپ کو تحریری طلاق دی تھی یا زبانی اور الفاظ کیا تھے؟2۔کیا آپ نے وہ الفاظ خود سنے تھے یا آپ کو کسی نے بتائے تھے؟
جواب وضاحت: طلاق زبان سے دی تھی میں نے وہ الفاظ خود سنے تھے میرے خاوند نے مجھے تین بار ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ ٹھیک ہے”تمہیں طلاق،تمہیں طلاق، تمہیں طلاق” میرے والدین مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ تمہارا جینا مرنا اسی( زید ) کے ساتھ ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان کے مطابق تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی البتہ بیوی کے بیان کے مطابق بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہٰذا اب نہ صلح کی گنجائش ہے اور نہ رجوع ہو سکتا ہے ۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں خاوند اگر طلاقوں کا منکر ہے لیکن طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے یعنی اگر وہ طلاق کے الفاظ خود سن لے تو اس کے لیے اپنے سنے ہوئے پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ بیوی نے تین مرتبہ صریح الفاظ کہ” تمہیں طلاق تمہیں طلاق تمہیں طلاق” اپنے کانوں سے خود سنے ہیں اس لیے بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی اپنے خاوند پر حرام ہو چکی ہے لہذا بیوی کے لیے اب اپنے خاوند کے ساتھ رہنا جائز نہیں ۔
نوٹ: بیوی اگر اپنے بیان میں جھوٹ بول رہی ہے کہ خاوند نے مجھے تین مرتبہ طلاق دے دی ہے جب کہ خاوند نے طلاق نہیں دی تو اس فتوے کی وجہ سے نکاح ختم نہ ہوگا اور بیوی کی اللہ کے ہاں پکڑ بھی ہوگی۔
در مختار (4/443) میں ہے:
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، …..
رد المحتار (4/449) میں ہے:
والمراة كالقاضي اذا سمعته او اخبرها عدل لا يحل لها تمكينه .
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved