• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق نوٹسوں پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

میرا  (****) کا نکاح**** کے ساتھ  مؤرخہ11-11-23 کو  ہوا تھا جس سے میرے تین بچے ہیں، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ، ہماری ازدواجی زندگی ٹھیک طریقے سے بسر نہ ہوسکی، روز روز کی لڑائیوں کی وجہ سے میں  نے آج سے چار سال پہلے اپنی  بیوی کو ایک طلاق دی تھی   اور 15 سے 20 دن کے اندر رجوع  کرلیا تھا لیکن آج سے ایک سال  تین ماہ پہلے میں نے اپنی بیوی کو ایک نوٹس بھیجا  ، لیکن میں  نے تین نوٹس ایک ساتھ نکلوائے تھے جبکہ میں نے اپنی بیوی کو ایک نوٹس بھیجا ( اس سے پہلے تک مجھے یہ علم نہ تھا کہ نوٹس ایک بھیج دینے یا تین نوٹس اکٹھے نکلوالینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے  ) لیکن میں نے تین نوٹس پر سائن کردیئے تھے اور اب جب کیس عدالت میں چلا گیا تھا اور میں نے Conjugal Right (ازدواجی حقوق) کا  کیس کیا تھا کہ میری بیوی واپس آجائے ان کی واپسی نہ ہوئی جس کی وجہ سے میں نے یونین کونسل میں درخواست دیدی اور انہوں نے بھی پہلا نوٹس بھجوادیا ۔ آپ میری رہنمائی کریں کہ کیا طلاق واقع ہوگئی ہے اور کیا میں اپنی بیوی سے یا بچوں کی ماں سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہوں؟

پہلے طلاقنامے کی عبارت:

منجانب: **** سکنہ******۔ فریق اول بحق***** سکنہ*****۔ فریق دوم فریق اول ***** کی شادی ہمراہ **** سے مؤرخہ 2011-11-30 شریعت محمدی کے تحت سرانجام پائی ………….. لہٰذا ان تمام باتوں اور معاملات کے پیشِ نظر فریق اول اپنے پورے ہوش وحواس بلا جبر واکراہ وترغیب غیرے بلا کسی دباؤ کے اپنی اہلیہ*** کو طلاق اول دیتا ہوں کہ فریق اول کی طرف سے پہلی طلاق  ہے۔ یہ طلاقنامہ تحریر کردیا ہے تاکہ سند رہے۔

دوسرےطلاقنامے کی عبارت:

……………لہٰذا ان تمام باتوں اور معاملات کے پیشِ نظر فریق اول اپنے پورے ہوش وحواس بلا جبر واکراہ و بلاغيرے ترغیب کسی دباؤ کے اپنی اہلیہ **** کو  دوسری طلاق  "طلاق دوم” دیتا ہوں  لہٰذا یہ طلاقنامہ تحریر کردیا ہے تاکہ سند رہے۔

تیسرےطلاقنامے کی عبارت:

……………لہٰذا ان تمام باتوں اور معاملات کے پیشِ نظر فریق اول اپنے پورے ہوش وحواس بلا جبر واکراہ و بلا  ترغیب غیرے کسی دباؤ کے بغیر  اپنی اہلیہ ****کو   تیسری طلاق  "طلاق سوم” دیتا ہوں  لہٰذا یہ طلاق سوم تحریر کردیا ہے تاکہ سند رہے۔ اور بوقت ضرورت کام آوے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تین طلاقیں  واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے  لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ:طلاقنامے کی تحریر کتابت مستبینہ مرسومہ ہے جس پر دستخط کرنے سے طلاق واقع  ہو جاتی ہے، مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے ایک ہی وقت میں تین طلاقناموں پر دستخط کیے ہیں اور طلاقناموں پر کوئی تاریخ  بھی درج نہیں تھی لہذا  یہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں شمار ہوں گی جس کی وجہ سے  تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔

فتاوی شامی (442/4) میں ہے:

قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو

بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved