• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق بذریعہ نوٹس

استفتاء

میرے شوہر نے مجھے 2 طلاق کے نوٹس بذریعہ واٹس ایپ  بھیج دیئے ہیں ۔ دوسرا  نوٹس 20 اگست 2025 کو  بھیجا تھا۔ اور اب ڈھائی مہینے ہو گئے ہیں وہ آخری نوٹس نہیں بھیج رہے۔ کئی بار کہلوانے پر بس یہ جواب ملتا ہے ایک  ہفتہ تک مل جائے گا۔ حق مہر کی وجہ سے کہ ادا نہ کرنا پڑے۔

سوال یہ ہے کہ کیا 2 ماہ بعد تیسری طلاق واقع ہو گئی ہے؟ جب کہ ہمارے معاملات پچھلے 8 ماہ  سے ختم ہیں۔ نہ کوئی خرچ دیا اور نہ صلح کا کوئی معاملہ اور یہ کہ  اب ہمارے معاملات ختم ہیں اور کوئی رابطہ نہیں ۔

طلاق نامہ (نوٹس اول) کی عبارت:

“……………………..اب من مقر مسماۃ مذکوریہ  فاطمہ دختر  خالد  کو اپنی زوجیت میں نہیں رکھنا چاہتا دریں مؤرخہ 2025/05/27 من مقر اپنے بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلا جبر واکراہ بلا ترغیب غیرے تحریری طور پر مسماۃ  فاطمہ  دختر خالد  کو طلاق اول دیتا ہوں اور مقررہ مدت کے بعد طلاق دوئم جاری کردوں گا۔ المرقوم:2025/05/27

طلاق نامہ (دوسرا نوٹس) کی عبارت:

” …………. من مقر مسماۃ فاطمہ   دختر محمد خالد  کو طلاقنامہ پہلا نوٹس طلاق 2025/05/27 کو دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ کرلیا ۔ اس لیے من مقر مسماۃ فاطمہ  دختر خالد  کو طلاقنامہ دوسرا نوٹس طلاق دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ کرتا ہوں …. …..مؤرخہ:2025/08/20

وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: *********

درالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اقرار کیا ہے کہ ان کے مطالبہ پر میں نے دو طلاق کے نوٹس بھیجے ہیں اور طلاقنامے پڑھ کر میں نے ان پر  دستخط کیے ہیں ۔

وضاحت مطلوب ہے:پہلا طلاقنامہ 2025-05-27 کو لکھا گیا ہے اور دوسرا طلاقنامہ 2025-08-20 کو لکھا گیا ، کیا اس مدت کے دوران عدت گزر گئی تھی یا نہیں؟

جواب وضاحت: پہلے طلاقنامے کے تین، چار دن بعد ایام شروع ہوئے تھے پھر اگلے ماہ بھی اسی طرح اور اس سے اگلے ماہ بھی اسی طرح۔ اگست والے طلاقنامے سے پہلے تین حیض پورے ہوگئے تھے۔

مزید وضاحت مطلوب ہے:آپ کہہ رہی ہیں کہ دو طلاق کے نوٹس ایک ماہ کے وقفے سے بھیج دیئے تھے جبکہ دوسرا نوٹس عدت گذرنے کے بعد ہے؟

جواب وضاحت: ایک ماہ کا وقفہ نہیں ہے بلکہ اڑھائی یا تین ماہ کا وقفہ ہے۔

نوٹ: اس وضاحت کے بعد سوال میں تصحیح کردی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں شوہر نے پہلے  طلاق نامے میں  صریح الفاظ کیساتھ  بیوی کو ایک طلاق دی ہے جس سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی لیکن چونکہ شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا، اس لیے عدت گزرنے کے بعد بیوی  شوہر کے نکاح سے نکل گئی لہٰذا  اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو دوبارہ سے نکاح کر کے  رہ سکتے ہیں۔

توجیہ: چونکہ پہلے طلاق نامہ اور دوسرے طلاق نامہ کے دوران عدت گزر گئی تھی،جس سے بیوی شوہر کے نکاح سے نکل چکی تھی،لہذا دوسرے طلاق نامے سے مزید کوئی  طلاق واقع نہ ہوگی۔

رد المحتار (443/4) میں ہے:

وفي التتارخانية:…………… ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه

ہدایہ (2/84) میں ہے:

“‌الطلاق ‌على ‌ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي” لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا

بدائع الصنائع (3/283) میں ہے:

‌أما ‌الطلاق ‌الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved