- فتوی نمبر: 6-183
- تاریخ: 10 اکتوبر 2013
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
لڑکی کا بیان
لڑکی نے اپنے شوہر سے کہا میں نے اپنی ماں کے گھر جانا ہے، تو لڑکے نے کہا کہ تو نے مجھ سے پوچھا ہے؟ لرکی نے کہا مجھے نہیں پتہ بس میں جا رہی ہوں، تو شوہر نے اسے کہا کہ تم جاؤ، لیکن لڑکوں یعنی اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جانا، تو شوہر نے گالی نکالی، تو میں نے کہا کہ گالی نہ نکالو، شوہر نے مجھ سے کہا کہ تمہاری ماں یعنی (ساس) مجھے تانے مارے گی، تو میں نے کہا پہلے نہیں مارے تھے اب ماروں گی، تو مجھے میرے شوہر نے کہا “جا میرے گھر سے نکل جا”، تین مرتبہ کہا “تجھے طلاق ہے” لفظ “تجھے” ایک مرتبہ کہا اور لفظ “طلاق” تین مرتبہ کہا، اور کہا بھی سب جلدی کہا تھا۔
میرے دو بچے ہیں ایک 9 ماہ کا ہے اور دوسرا تین سال اور چھ ماہ کا ہے۔ اے امیر المومنین! میرے لیے کچھ رحم کا فیصلہ کرا دیں۔
اور ہماری دادی نے ہماری باتیں سنی ہیں اور وہ کہتی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ طلاق کا لفظ سنا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ نکاح مکمل طور سے ختم ہو گیا ہے۔ اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ ہی رجوع کی گنجائش ہے۔
تین طلاق چاہے ایک ہی دفعہ دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں تینوں واقع ہو جاتی ہیں۔
عن مالک ابن الحارث عن ابن عباس أتاه رجل فقال إن عمي طلق امرأته ثلاثاً قال إن عمك عصی الله فاندمه الله فلم يجعل له مخرجاً. (مصنف ابن أبي شيبة)
ترجمہ: مالک بن حارث سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ تو (خلاصی کی کوئی راہ بتائیں) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارے چچا نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ندامت میں ڈال دیا اور اس کے لیے خلاصی کی کوئی راہ نہیں رکھی۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved