- فتوی نمبر: 25-195
- تاریخ: 13 مئی 2024
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی کا دعوی ہے کہ میرے شوہر نے جھگڑے کے دوران مجھے کہا کہ ’’یو، دوا، درے تہ پہ ما طلاقہ یے‘‘ (ایک، دو، تین تم مجھ پر مطلقہ ہو) اور شوہر اس بات کا منکر ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی، بیوی کے پا س اپنے دعوی پر خاندان کی دو عورتیں گواہ ہیں۔ اس صورتحال میں بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہذا اگر وہ خود شوہر کو طلاق دیتے ہوئے سن لے تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے، مذکورہ صورت میں اگر واقعتا بیوی نے شوہر سے یہ الفاظ سنے ہیں کہ ’’یو، دوا، درے تہ پہ ما طلاقہ یے‘‘ (ایک، دو، تین تم مجھ پر مطلقہ ہو) تو بیوی کے حق میں ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے، جس کا حکم یہ کہ اگر شوہر رجوع کرنا چاہے تو عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے، اگر شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے سے رجعی طلاق بائنہ بن جائے گی جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو جائے گا اور اکٹھے رہنے کے لیے کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر نا ضروری ہو گا۔
توجیہ: ’’ایک دو تین‘‘ کے الفاظ محض عدد ہیں جو طلاق کے لیے نہ صریح ہیں اور نہ کنایہ، اور ’’تم مجھ پر مطلقہ ہو‘‘ کے الفاظ ایک مستقل جملہ ہے اور سابقہ اعداد کے لیے معدود نہیں ہے، لہذا اس جملے سے صرف ایک رجعی طلاق واقع ہوئی ہے۔
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.عالمگیری (1/470) میں ہے:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved