• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

تنخواہ (Compensation)

استفتاء

**الیکٹرک میں الیکٹریشن، الیکٹرک اور ہارڈ ویئر سے متعلق سامان مثلاً پنکھے، بجلی کے بٹن، انرجی سیور LED بلب، تار کوائل شپ (ایک خاص قسم کی مہنگی تار) رائونڈشپ تار (خاص قسم کی تار جو بنڈل کی شکل میں ہوتی ہے اور کسٹمر کی ضرورت کے مطابق اس کو بنڈل سے کاٹ کر دی جاتی ہے) وغیرہ کی خریداری کی جاتی ہے۔

** کے ملازمین کے لیے گورنمنٹ لاء کے مطابق تنخواہ کتنی ہونی چاہیے اس کا علم انتظامیہ کو نہیں ہے تاہم ** میں مختلف ملازمین کی مختلف تنخواہیں ہیں۔ فی الحال زیادہ سے زیادہ تنخواہ ایک ملازم کی چالیس ہزار ہے جب کہ کم سے کم تیرہ ہزار ہے۔ نیز مارکیٹ میں بھی عام طور سے اس طرح کے کام کرنے والے کی اتنی ہی تنخواہ ہوتی ہے۔

** کی طرف سے تنخواہوں کی ادائیگی ہر مہینے کی یکم تاریخ کو کر دی جاتی ہے، لیکن عموماً ملازمین تنخواہ کا اکثر حصہ مہینہ کے دوران ایڈوانس وصول کر لیتے ہیں، اور مہینہ کے آخر میں حساب کتاب کر کے اگر تنخواہ کا کچھ حصہ باقی ہو تو اس کی ادائیگی بھی مکمل کر دی جاتی ہے۔

تنخواہ سے متعلق مذکورہ طریقہ کار شرعاً کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تنخواہ سے متعلق مذکورہ طریقہ کار شرعاً درست ہے، تاہم کم سے کم تنخواہ سے متعلق حکومت کا اگر کوئی قانون ہو تو اسے معلوم کر کے اس کی پابندی کرنا شرعاً ضروری ہے۔

(۱)            شرح المجلۃ (۲/۵۶۲) میں ہے:

(المادة: ۴۷۳) يعتبر و يراعي کل ما اشترط العاقدان في تعجيل الاجرة و تاجيلها لما تقدم في المادة (۸۳) من أنه يلزم مراعاة الشرط بقدر الامکان قال في العناية، و اعترض بأن شرط التعجيل فاسد لانه يخالف مقتضي العقد و فيه منفعة لاحد العاقدين وله مطالب، فيفسد العقد والجواب ان کو نه مخالفاً، اما ان يکون من حيث کونه اجارة او من حيث کونه معاوضة۔

والاول مسلم، وليس شرط التعجيل باعتباره

والثاني ممنوع، فان تعجيل البدل و اشتراطه لايخالف من حيث المعاوضة (افاده الطوري)

(۲)           شرح مجلۃ الاحکام: (۲/۵۵۶) میں ہے:

(۴۶۷): تلزم الاجرة بالتعجيل يعني لوسلم المستاجر الاجرة نقدا ملکها الآجر وليس للمستاجر استردادها۔

(۳)  صحیح مسلم، باب وجوب طاعۃ الأمراء فی غیر معصیۃ (حدیث: ۴۷۶۳) میں ہے:

 عن ابن عمر عن النبي ﷺ أنه قال ’’علي المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب و کره إلا أن يؤمربمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة‘‘۔

(۴)           مجلۃ الأحکام العدلیۃ: (۹۰) میں ہے:

المادة ۴۷۶: ’’إن کان الأجرة مؤقتة بوقت معين کالشهرية أو السنوية مثلاً، يلزم إيفاؤها عند انقضاء ذلک الوقت۔‘‘

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved