- فتوی نمبر: 31-304
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص (زید)فوت ہوا جس کی دو بیویاں زندہ ہیں اور ایک بیٹی تھی جو باپ سے پہلے فوت ہو گئی اور کوئی بیٹا نہیں ہے اور ایک باپ شریک بھائی ،ایک ماں شریک بھائی اورایک ماں شریک بہن تھی یہ تینوں بھی مرحوم سے پہلے فوت ہو گئےاور 3 باپ شریک بہنیں تھیں جن میں 1زندہ ہے اور 2مرحوم سے پہلے فوت ہو گئیں اور والدین بھی مرحوم سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔اب ان میں وراثت کیسے تقسیم ہو گئی؟
وضاحت مطلوب ہے کہ:(1) چچا ہیں ہی نہیں یا تھے اب فوت ہو چکے ہیں؟(2)اگر چچا فوت ہو چکے ہیں تو ان کی اولاد موجود ہےاور کتنی ہے؟
جواب وضاحت:(1)چچا مرحوم سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔(2)چچا کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں حیات ہیں اور اکثریت فوت ہو گئی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی جائیداد کے 8 حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیوی کو 1-1 حصہ (12.5فیصد) ،چچا کے ہر بیٹے کو بھی 1-1 حصہ (12.5فیصد) اور باپ شریک بہن کو 4 حصے (50فیصد) ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے :
4×2=8 2,2=2
| 2بیویاں | چچا کے 2بیٹے | باپ شریک بہن | چچا کی دو بیٹیاں |
| ربع | عصبہ | نصف | محروم |
| 1×2 | 1×2 | 2×2 | |
| 2 | 2 | 4 | |
| 1+1 | 1+1 | 4 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved