• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

تقسیم میراث کی ایک صورت

استفتاء

*** کا انتقال ہوا ۔ *** کےورثاء میں ایک بیوی اور چار بھائی ہیں جبکہ والدین،دادا، دادی  کا انتقال پہلےاور دو بھائیوں   کا انتقال بعد میں  *** کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا اور *** کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے ۔

1۔*** نے اپنے ترکے میں تین کروڑ روپے کی مالیت کا ایک مکان چھوڑا ہے،لہذا شریعت کے مطابق بیوی اور بقایا ورثاء کا حصہ بیان فرمائیں۔

2۔اس کے علاوہ جب *** کے والد کا انتقال ہوا تھا تو والد کی طرف سے ترکے میں ایک ہوٹل *** سمیت ساتوں بھائیوں کی ملکیت میں آیا تھا جس کی مالیت تقریبا چار کروڑ روپے ہے اور اب جبکہ *** کا بھی انتقال ہو گیا ہے تو *** کے والد کا ترکہ (یعنی چار کروڑ روپے مالیت کے ہوٹل) میں سے *** کا حصہ اور اب *** کے انتقال کے بعد ان کی بیوی اور دیگر ورثاء کا حصہ  بیان فرمائیں۔

تنقیح: *** کے والد کے انتقال کے وقت *** کی والدہ اور دادا، دادی زندہ نہیں تھے، *** کا بھائی جو پہلے فوت ہوا تھا اس کے ورثاء میں بیوی اور چار بچے (تین بیٹے اور ایک بیٹی) تھے، دوسرے مرحوم بھائی کے ورثاء میں بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے، *** کی اولاد نہیں تھی اور *** کی کوئی بہن بھی نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

*** کا اپنے والد مرحوم کی وراثت میں سے24 یعنی (825. 14فیصد) حصے بنتے ہیں۔ *** کو والد کی طرف سے ملنے والی یہ وراثت اور *** کی اپنی وراثت  *** کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ان دونوں وراثتوں کو 16 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے***  کی بیوی کو   4 حصے(25 فیصد) اور چار بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 3 حصے (18.75فیصد فی کس) ملیں گے۔

تقسیم  کی صورت درج ذیل ہے:

4×4=16

بیوی 4بھائی
ربع عصبہ
1×4 3×4
4 12
4 3+3+3+3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved