- فتوی نمبر: 32-105
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
والد صاحب نے اپنے ایک بیٹے کے پاس 20 ہزار روپے رکھوائے تھے،والد صاحب فوت ہو گئے اوربیٹے نے وہ پیسے کاروبار میں لگا دیئے اب بیٹے کو خیال آرہا ہے کہ وہ پیسے سب بہن بھائیوں میں تقسیم کر دوں لیکن وہ پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ جو اس سے نفع ہوا ہے وہ بھی تقسیم کرنا ہوگا یا صرف اصل رقم تقسیم کر دینا کافی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مشترکہ ترکہ کی اصل رقم اور نفع کو ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم کردیا جائے۔
شامى(9/315) میں ہے:
فلو غصب أرضا فزرعها كرين فأخرجت ثمانية، ولحقه من المؤنة قدر كر ونقصها قدر كر فإنه يأخذ أربعة أكرار ويتصدق بالباقي، وقال أبو يوسف: لا يتصدق بشيء وبيانه في التبيين قال في الدر المنتقى: وأفاد أنه لا يصرفه لحاجته إلا إذا كان فقيرا كالغني لو تصرف تصدق بمثله ولو أدى لمالكه حل له التناول لزوال الخبث
قال الرافعى: قوله: (حل له التناول لزوال الخبث الخ) لان الخبث كان لأجل المالك فإذا اخذه لا يظهر الخبث فى حقه ولهذا لو سلم الغلة اليه مع العبد يباح له التناول.
اسلام اور جدید معاشی مسائل (4/85) میں ہے:
فقہاء کرام کے درمیان کلام ہوا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس دوسرے کا مال رکھا ہوا ہو، امانتا ہو یا کسی اور طریقے سے اس کے پاس آیا ہو، اگر وہ اس کو اصل مالک کی اجازت کے بغیر کسی نفع بخش کام میں لگائے اور اس سے نفع حاصل کرے تو اس نفع کا حقدار کون ہو گا ؟ اس میں زیادہ تر فقہاء کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں چونکہ نفع مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کیا ہے اس لئے وہ نفع کسب خبیث ہے، کیونکہ یہ دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف ہے اس لئے وہ کمائی اس کے لئے طیب نہیں ہے۔ لہذا اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کسب خبیث کو صدقہ کرے، وہ واجب التصدق ہے۔
اور یہ معاملہ میراث میں بکثرت پیش آتا ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور وہ اپنی دکان چھوڑ گیا ، اب بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ اس دکان میں تصرف کرنے والا ایک ہوتا ہے، جو اس کو چلاتا رہتا ہے اور نفع آتا رہتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ نفع کس کا ہے؟ آیا اس کے اندر سارے ورثاء شریک ہوں گے یا صرف اس کا ہو گا جس نے اس میں عمل کر کے اس کو بڑھایا ؟عام طور سے فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ اس نے یہ عمل ورثاء کی اجازت کے بغیر کیا ہے لہذا یہ خبیث ہے اس لئے اس کسب خبیث کو صدقہ کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن متاخرین حنفیہ میں سے علامہ رافعی نے یہ فرمایا کہ چونکہ خبث صاحب مال کے حق کی وجہ سے آیا ہے لہذا اگر وہ صدقہ کرنے کے بجائے صاحب مال کو دیدے تب بھی صحیح ہو جائے گا، چنانچہ وراثت والے مسئلہ میں اگر ایک وارث متصرف ہو گیا جبکہ حق سارے ورثاء کا تھا تو اس میں اصل حکم تو یہ ہے کہ جو کچھ ربح حاصل ہوا وہ تصدق کرے لیکن اگر تصدق نہ کرے بلکہ ورثاء کو دیدے تو اس کا ذمہ ساقط ہو جائے گا بلکہ یہ زیادہ مناسب ہے تا کہ اس سے تمام ورثاء فائدہ اٹھا لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved