- فتوی نمبر: 31-308
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہمارے والدین وفات پا گئے ہیں ۔ ہم تین بہنیں ہیں ۔ ایک دس مرلہ کا گھر اور ایک گاڑی والد مرحوم کی ملکیت ہے۔ ایک عدد دوکان والدہ مرحومہ کی ملکیت ہے ۔ شرعی حیثیت سے جائیداد کے وارثان کون ہیں اور انکا کتنا حصہ بنتا ہے ۔ہمارے والد دو بھائی تھے ،دوسرے بھائی یعنی تایا ابا اب بھی حیات ہیں ۔ ہماری والدہ کے حقیقی بہن بھائی نہیں ہیں ۔ والدہ کی حقیقی والدہ انتقال کر گئیں تو نانا جی نے دوسری شادی کرلی ۔ اب ہماری والدہ کے دو سوتیلے بھائی اور 6 سوتیلی بہنیں ہیں ، جن میں سے ایک بہن کا انتقال ہوگیا ہے ، 5 بہنیں حیات ہیں ۔
وضاحت مطلوب ہے کہ: آپ کے والدین میں سے پہلے کون فوت ہوا تھا اور وفات کے وقت ورثاء میں کون کون زندہ تھا؟
جواب وضاحت: پہلے والد صاحب نےمیں وفات پائی ، پھر والدہ نے2024 میں وفات پائی ۔والد مرحوم کے بڑے بھائی ابھی بھی حیات ہیں ۔اور والدہ مرحومہ کے سوتیلے دو بھائی اور 5 بہنیں ابھی بھی حیات ہیں ۔
وضاحت مطلوب ہے:والدہ کے والد حیات ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو انتقال کب ہوا؟ والدہ کی زندگی میں یا بعد میں؟
جواب وضاحت: نانا کا انتقال والدہ کی حیات میں ہی ہوگیا تھا ،علاتی بہن کا انتقال بھی زندگی میں ہوگیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپکے والد مرحوم کے ترکہ کو 72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے مرحوم کی تین بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 16 حصے( یعنی 22.222 فیصد فی کس) ملیں گے اور مرحوم کے بھائی کو 15 حصے (یعنی 20.833 فیصد) ملیں گے اور باقی نو حصے(12.5فیصد) مرحوم کی زوجہ مرحومہ کو ملیں گے اور ان کے ترکہ میں شامل کر لیے جائیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×3=72
| تین بیٹیاں | بیوی | بھائی |
| 3/2 | 8/1 | عصبہ |
| 16×3 | 3×3 | 5×3 |
| 48 | 9 | 15 |
| 16+16+16 |
والد مرحوم کی میراث تقسیم کرنے کے بعد جو حصہ مرحوم کی اہلیہ مرحومہ کو ملا تھا وہ اور اس کے علاوہ مرحومہ کی ذاتی جائیداد دکان وغیرہ تمام ترکہ کے 27 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحومہ کی تین بیٹیوں کو والدہ کے ترکہ میں سے 6-6 حصے( یعنی 22.22 فیصد فی کس) ملیں گے اسی طرح مرحومہ کے دو باپ شریک بھائیوں میں سے ہر ایک کو 2-2 حصے( یعنی 7.407فیصد فی کس) ملیں گے اور مرحومہ کی پانچ بہنوں میں سے ہر بہن کو 1-1 حصہ (یعنی3.703فیصد فی کس) ملیں گے۔ جس علاتی بہن کا مرحومہ کی زندگی میں انتقال ہو گیا تھا اس کو اور اس کے ورثاء کومرحومہ کی میراث میں سے شرعاً کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
3×9=27 ما فی الید: 9حصے +ذاتی جائیداد
| تین بیٹیاں | 2علاتی بھائی | 5علاتی بہنیں |
| 3/2 | عصبہ | |
| 2×9 | 1×9 | |
| 18 | 2+2 | 1+1+1+1+1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved