• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

طواف کے علاوہ حجر اسود کو چومنے کا حکم

استفتاء

1۔ کیا حجر اسود کو چومنا طواف کے بغیر بھی نبی کریم ﷺ یا آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے ثابت ہے یا نہیں؟

نیو منیٰ میں رات گذارنے کا حکم، نیو منیٰ کے بجائے مکہ میں اپنے ہوٹل میں رات گذارنا

2۔ نیو منیٰ کا کیا حکم ہے؟ اگر حاجی مزدلفہ کی رات نیو منیٰ  (یعنی مزدلفہ کا وہ حصہ جہاں منیٰ کے خیمے جگہ کی تنگی کی وجہ سے لگے ہوتے ہیں) میں گذارے، تو کوئی کراہت ہے یا نہیں؟ نیز وہاں منیٰ کے ایام گذارنے سے منیٰ کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ اگر کوئی اس وجہ سے منیٰ کی راتیں مکہ میں اپنے ہوٹل میں گذارے کہ ویسے بھی ہمارا خیمہ مزدلفہ میں ہے، تو اب چاہے ہم مکہ میں رہیں یا نیو منیٰ میں رہیں، بات ایک ہی ہے، تو وہ گنہگار ہو گا یا نہیں؟

 

پیدائشی بال نہ ہونے کی صورت میں عورت کے لیے حلق کا حکم، ایرفریشنر کا استعمال

3۔ اگر کسی خاتون کے پیدائشی بال نہ ہوں تو اس کا قصر معاف ہے یا نہیں؟ نیز حالتِ احرام میں ایر فریشر کر کے اپنے کمرہ کو معطر کرنے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ حجر اسود کا بوسہ صرف طواف میں سنت ہے، بغیر طواف کے سنت نہیں۔ چنانچہ عمدة المناسک صفحہ: 359 بحوالہ  مناسک نووی صفحہ: 266 میں ہے:

مسئلہ: حجر اسود کا بوسہ صرف طواف کے دوران سنت ہے، بغیر طواف کے سنت نہیں۔

2۔ الف: نیو منیٰ کا حکم منیٰ کا نہیں۔ بلکہ یہ مزدلفہ ہی ہے۔ لہذا اگر کوئی حاجی مزدلفہ کی رات نیو منیٰ یعنی مزدلفہ میں گذارے تو اس میں کراہت کی کوئی وجہ نہیں۔

ب: رش کے زیادہ ہونے اور جگہ کی تنگی ہونے کی وجہ سے سعودی حکومت جن حجاج کے خیمے مزدلفہ یعنی نیو منیٰ میں لگاتی ہے، اور انہیں وہاں ٹھہراتی ہے، تو ایسے حجاج کا منیٰ کا قیام چونکہ ایک مجبوری اور عذر کی وجہ سے چھوٹ رہا ہے۔ لہذا ایسے حجاج کے بارے میں منیٰ کے قیام کا ثواب ملنے کی امید ہے۔ تاہم ایسے حجاج میں سے بھی کوئی ہمت کرے اور جتنا ہو سکے حدود منیٰ میں جا کر وقت گذار سکے تو مزید ثواب کی بات ہے۔

ج: جس حاجی کا خیمہ مزدلفہ یعنی نیو منیٰ میں ہو، اس کا منیٰ کی راتیں مکہ میں اپنے ہوٹل میں گذارنا اور یہ خیال کرنا کہ ویسے بھی ہمارا خیمہ مزدلفہ میں ہے، لہذا اب چاہے ہم مکہ میں رہیں یا نیو منیٰ میں رہیں، ایک ہی بات ہے۔ شرعاً غلط ہے، اور اس کا یہ عمل کراہت سے خالی نہیں۔ کیونکہ عقلی اور شرعی اصول ہے: ما لا يدرك كله لا يترك كله.

3۔ الف: ایسی صورت میں قصر تو ممکن ہی نہیں، البتہ یہ عورت اپنے سر پر خالی استرا پھیرے گی۔ رہی یہ بات کہ حلق تو عورتوں کے لیے مکروہ اور ممنوع ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کراہت اور ممانعت تب ہے جب بلا عذر اور تشبہ بالرجال کے طور پر ہو۔ اور مذکورہ صورت عذر کی ہے۔ اور اس میں تشبہ بالرجال بھی نہیں ہے، کیونکہ اس عورت کے سر پر تو پہلے ہی بال نہیں ہیں۔

غنیة الناسک میں ہے:

فإذا فرغ من الذبح حلق رأسه أو قصر و الحلق أفضل للرجال و مكروه للنساء كراهة تحريم إلا للضرورة. (غنية الناسك: 173)

ب: حالت احرام میں ایرفریشنر کر کے اپنے کمرے کو معطر کرنے سے اگرچہ کوئی جزا یعنی دم وغیرہ تو لازم نہیں آئے گا۔ البتہ یہ عمل مکروہ ہے۔ کیونکہ اس کا یہ عمل اسی لیے ہے تاکہ کمرے سے اچھی خوشبو آتی رہے۔

1۔ فتاویٰ شامی میں ہے:

و علم من مفهوم شرطه أنه لو شم طيباً أو ثماراً طيبة لا كفارة عليه و إن كره. (رد المحتار: 3/ 653) فقط و الله تعالی أعلم

2۔ معلم الحجاج میں ہے:

’’عطر والے کی دکان پر بیٹھنے کا مضائقہ نہیں، البتہ سونگھنے کی نیت سے بیٹھنا مکروہ ہے۔‘‘ (234) فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved