- فتوی نمبر: 34-284
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
پانچ اکتوبر کو ٹیچرز ڈے منایا جاتا ہے کیا وہ منانا جائز ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹیچرز ڈے منانا جائز نہیں کیونکہ غیر مذہب لوگ بھی مناتے ہیں۔
تنقیح: سب سے پہلے ٹیچرز ڈے ارجنٹینا میں 11 ستمبر 1915ء میں منایا گیا جو مشہور ماہر تعلیم ” ڈومینگو فاوستینو” کی وفات کی یاد میں منایا جاتا ہے جبکہ عالمی سطح پر سب سے پہلے ٹیچرز ڈے 5 اکتوبر 1994ء کو منایا گیا تھا۔
5 اکتوبر 1966ء کو بین الاقوامی محنت تنظیم (ILO) اور اقوام متحدہ کی تعلیمی و ثقافتی تنظیم (UNESCO) کی جانب سے ایک تجویز نامے پر دستخط کیے گئے تھے جس میں اساتذہ سے متعلق تعلیمی عملہ کی پالیسی، تقرری، ابتدائی تربیت، پیشہ وارانہ ترقی، روز گار اور کام کے حالات کے معیارات بیان کیے گئے ہیں۔ پھر 1994 ء میں اسی تجویز نامے کے دستخط کی یاد میں مذکورہ ادارے (UNESCO) کی جانب سے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اہتمام کیا جانے لگا۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیچرز ڈے اسی تاریخ یعنی 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے تاہم بعض ممالک اسے مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں۔ جیسے ارجنٹینا والے 11 ستمبر کو، ہندوستان والے 5 ستمبر کو (اپنے دوسرے صدر ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کی سالگرہ کے موقع پر)
اسے منانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں وغیرہ میں اساتذہ کے اعزاز میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جن میں اساتذہ کے لیے تقاریر، شاعری اور گیت وغیرہ پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو شیلڈز اور ایوارڈز وغیرہ سے بھی نوازا جاتا ہے۔ طلباء اساتذہ کو تحفے اور کارڈز وغیرہ پیش کرتے ہیں۔ کلاس رومز کو پھولوں وغیرہ سے سجایا جاتا ہے۔ بعض حکومتیں اور تعلیمی ادارے بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو خصوصی ایوارڈز سے بھی نوازتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ یونیسکو(UNESCO) اور ایجوکیشن انٹرنیشنل(EI)(جو کہ دو بین الاقوامی ادارے ہیں) ہر سال ایک نیا موضوع طے کرتے ہیں اور اس موضوع کے تحت دنیا بھر میں تعلیمی پالیسیوں، تربیت اور اساتذہ کے مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔ مثلاً 2023 کا موضوع تھا:
“The teachers we need for the education we want”
وہ اساتذہ جن کی ہمیں مطلوبہ تعلیم کے لیے ضرورت ہے۔
اس موضوع کا مقصد اساتذہ کی قلت کی طرف توجہ دینا تھا۔
اسی طرح 2024 کا موضوع تھا:
“Valuing teacher voices : towards a new social contract for education “
“اساتذہ کی آوازوں کی قدر : تعلیم کے لیے ایک نئے سماجی معاہدے کی جانب”
اس موضوع کا مقصد اساتذہ کی آراء کو اہمیت دینا تھا۔ (یہ ساری معلومات وکیپیڈیا سے لی گئی ہیں)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
وکی پیڈیا سے لی گئی معلومات کے پیش نظر “ٹیچر ڈے” کوئی مذہبی ڈے نہیں اور نہ ہی یہ مختص بالکفار یا مختص بالفساق ہے اس لیے اگر 5 اکتوبر کو ٹیچرز ڈے منانے کو علماً و عملاً ضروری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اس میں دیگر مفاسد مثلاً گانا، باجا، فضول خرچی وغیرہ ہو تو “ٹیچر ڈے” منانا جائز ہےورنہ جائز نہیں۔
اصلاح الرسوم(ص: 135) میں ہے:
کسی امر غیر ضروری کو اپنے عقیدے میں ضروری اور مؤکد سمجھ لینا یا عمل میں اس کی پابندی اصرار کے ساتھ اس طرح کرنا کہ فرائض و واجبات کے مثل یا زیادہ اس کا اہتمام ہو اور اس کے ترک کو مذموم اور تارک کو قابل ملامت و شناعت جانتا ہو یہ دونوں امر ممنوع ہیں۔
امداد الاحکام(1/286) میں ہے:
تشبہ بالکفار کی چندصورتیں ہیں: (1) فطری امور میں مشابہت ،مثلاً کھانا پینا، چلنا پھرنا،سونا لیٹنا، صفائی رکھنا وغیرہ یہ مشابہت حرام نہیں۔ قال فی الدر: فان التشبه بهم لایکره فی کل شی بل فی المذموم وفیما یقصد به التشبه کما فی البحر . قال الشامی تحت قوله لا یکره فی کل شيئ فانا ناکل ونشرب کما یفعلون اه ( ص ۶۵۲ج ۱)
(2)عادات میں مشابہت مثلاً جس ہیئت سے وہ کھانا کھاتے ہیں اسی ہیئت سے کھانا یا لباس ان کی وضع پرپہننا، اس کاحکم یہ ہے کہ اگر ہماری کوئی خاص وضع پہلے سے ہو اور کفار نے بھی اس کواختیار کرلیا ، خواہ وہ ہمارا اتباع کرکے یا ویسے ہی، اس صورت میں یہ مشابہت اتفاقیہ ہے، اور اگر ہماری وضع پہلے سے جدا ہو اور اس کو چھوڑ کر ہم کفار کی وضع اختیار کریں یہ ناجائز ہے، اگر ان کی مشابہت کاقصد بھی ہے تب تو کراہت تحریمی ہے، اور اگر مشابہت کا قصد نہیں ہے بلکہ اس لباس ووضع کو کسی اور مصلحت سے اختیار کیا گیا ہے اس صورت میں تشبہ کا گناہ نہ ہوگا، مگر چونکہ تشبہ کی صورت ہے، اس لیے کراہت تنزیہی سے خالی نہیں، قال هشام رأیت علی ابی یوسف نعلین مخسوفین بمسامیر فقلت ا تری بهذا الحدید باسا قال لا قلت فسفیان وثور بن یزید کرها ذلک لان فيه تشبها بالرهبان فقال ان رسول الله کان یلبس النعال التی لها شعر وانها من لباس الرهبان فقد اشار الیٰ ان صورة المشابهة فیما تعلق به صلاح العباد لایضرفان الارض ممالایمکن قطع المسافة البعيدة الا بهذا النوع اه قلت وفعله عليه السلام محمول علیٰ بیان الجواز اذا کان بدون القصد مگر چونکہ آجکل عوام جواز کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، ان کا قصد تشبہ ہی کا ہوتا ہے اس لیے اکثر احتیاط کے لیے عادات میں بھی تشبہ سے منع کیاجاتا ہے، خواہ تشبہ کاقصد ہویا نہ ہو۔
(3)ان امور میں تشبہ جو کفار کا مذہبی شعار یا دینی رسم اور قومی رواج ہے، جیسا زنار وغیرہ پہننا، یامجوس کی خاص ٹوپی جو ان کے مذہب کاشعار ہے اس میں تشبہ حرام بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے، عالمگیریہ وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved