- فتوی نمبر: 34-312
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
چھ سے سات دن پہلے میری بھانجی کو ان کے خاوند نے تین طلاقیں دیں ، اب خاوند کہہ رہا ہے کہ میری بیوی کو میرے پاس بھیج دو تو کیا حکم ہے؟
بیوی کا بیان:
میرے خاوند اور میرے درمیان جھگڑا ہوا تو انہوں نے مجھے تین مرتبہ یہ کہا “میں تجھے طلاق دیتا ہوں” مجھے الفاظ تب کہے جب میں نے ا سے کہا کہ مجھے آزاد کر دے میں آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ۔
لڑکی کے ماموں کا بیان:
طلاق کے بعد ہم گئے میں اور میری بہن تو ہم نے لڑکے سے کہا کہ کیا مسئلہ ہے کوئی اعتراض ہے تو ہم حل کر سکتے ہیں تو اس نے کہا کہ اب تو میں نے تین طلاقیں دے دیں اب کیا ہو سکتا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اب نکاح باقی رہا؟
شوہر کا بیان:
چھ ماہ پہلے میرا اور بیوی کا جھگڑا ہوا اور اس نے مجھے کہا کہ مجھے چھوڑ دو اس وقت میں نے تین دفعہ یہ الفاظ بولے” میں تجھے طلاق دیتا ہوں” لیکن میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
توجیہ:”میں تجھے طلاق دیتا ہوں” یہ الفاظ طلاق میں صریح ہیں اس میں شوہر کی نیت کے بغیر بھی طلاق ہو جاتی ہے چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے جس سے بیوی مطلقہ مغلظہ ہو گئی لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
بدائع الصنائع (3/101) میں ہے:
أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: ” أنت طالق ” أو ” أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة ” مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها
درمختار مع ردالمحتار(4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved