- فتوی نمبر: 34-122
- تاریخ: 06 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
مسمی زید ولد عمر سکنہ تحصیل **** نے مورخہ 2016-06-25 کو گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اپنی بیوی ( عائشہ) کو طلاق کی نیت سے وکیل کے سامنے بیٹھ کر دو گواہوں کی موجودگی میں ایک ہی بار اکٹھے تین طلاق کے نوٹس پر دستخط کردیے ۔ بعد ازاں دو نوٹس بھیجے گئے جبکہ ایک نوٹس نہیں بھیجا گیا ۔ فریقین اب رجوع کرنا چاپتے ہیں ۔ کیا دونوں شریعت محمدی اور اہل سنت والجماعت کے مطابق رجوع کرسکتے ہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلے کی وضاحت فرمائیں ۔
ہماری فیملی میں ایک جوڑے کے درمیان طلاق کا معاملہ ہوا ہے ۔ہم نے اس سلسلے میں مذکورہ سوال کے متعلق دارالاعتصام ( اہل حدیث ) سے فتوی ٰ لیا ہے( جو کہ ساتھ لف ہے ) جس میں ایک طلاق واقع کی گئی ہے اور میاں بیوی کو دوبارہ صلح کی گنجائش دی گئی ہے ۔ لیکن لڑکا کہتا ہے کہ میں صلح تب کروں گا جب فتوی ٰ اہل سنت بریلوی کے مطابق ہو ۔ آپ ہمیں جواب دے دیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بریلوی بھی چونکہ فقہ حنفی کے قائل ہیں اور فقہ حنفی بلکہ چاروں فقہوں کے مطابق مذکورہ صورت میں جب شوہر نے تین طلاق کے نوٹس پر دستخط کردیے تو اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اگرچہ بیوی کو ان میں سے صرف دو نوٹس بھیجے گئے ہیں ، کیونکہ تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں چاہے اکٹھی ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں لہٰذا تین طلاقوں کے بعد نہ صلح کی جاسکتی ہے اور نہ ہی رجوع کی گنجائش ہے ۔ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور امام ابوحنیفہ ؒ ، امام مالک ؒ ، امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ کا یہی مذہب ہے ۔
صحیح بخاری (2/792) میں ہے :
باب: من قال لامرأته: أنت علي حرام…….
وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے تین طلاقیں دی ہوں تو وہ فرماتے کہ اگر تم ایک یا دو طلاقیں دے دیتے ( تو پھر وہ حلال ہو سکتی تھی ) کیونکہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا تھا ۔ اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر وہ حرام ہوگئی ہے جب تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
سنن ابی داؤد (رقم الحدیث 2197) میں ہے :
عن مجاهد، قال: كنت عند ابن عباس، فجاءه رجل فقال: إنه طلق امرأته ثلاثا، قال: فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه، ثم قال: ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول: يا ابن عباس، يا ابن عباس، وإن الله قال: {ومن يتق الله يجعل له مخرجا} [الطلاق: 2] وإنك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجا، عصيت ربك، وبانت منك امرأتك
ترجمہ : مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے ! اس پر )عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے) پھر آ کر کہتا ہے اے ابن عباس !اے ابن عباس !( کوئی راہ نکالیے کی دہائی دینے لگتا ہے)اللہ تعالی کا فرمان ہے : ومن يتق الله يجعل له مخرجا ( سورۃ الطلاق ) (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کا راستہ نکالتے ہیں)۔
تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے )تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا ۔اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری (1/ 232)میں ے:
حيث قال مذهب جماهير العلماء من التابعين و من بعدهم منهم الأوزاعي و النخعي و الثورى و ابوحنيفة و أصحابه و مالك و أصحابه والشافعي و أصحابه و احمد و أصحابه و إسحاق و ابوثور و ابوعبيدة و آخرون كثيرون على أن من طلق امرأته ثلاثا يقعن و لكنه يأثم
فتاوی شامی (442/4) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved