• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تحریر ی طلاق میں عدم نیت

استفتاء

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص **** کی ایک عرصہ سے ایک لڑکی سے دوستی چل رہی تھی جس سے وہ شادی کرنا چاہتاتھا، جب اس بات کا اظہار لڑکی کے سامنے کیا تو وہ کہنے لگی کہ میں تم سے اس شرط پر شادی کروں گی کہ تم مجھے لکھ کر دو کہ تم  نے اپنی بیوی کو طلاق دیکر چھوڑدیا ہے۔ اس پر **** نے ایک سادہ کاغذ سے اسے یہ عبارت لکھ دی:

” میں **** ولد **** اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور اس وقت میں اپنے پورے ہوش میں ہوں کہ میں نے اپنی بیوی **** بنت **** کو طلاق دے دی ہے۔ طلاق دے دی ہے۔ طلاق دے دی ہے۔ اب میرا اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، میری طرف سے یہ اپنی عدت پوری کرکے جس کے ساتھ نکاح کرنا چاہے کرسکتی ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ، اور بچے کے بارے میں بھی اس کو مکمل اختیار دیتاہوں ۔ رکھے یا ختم کرے میرا اس کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں ہے”۔

لیکن لڑکی اس پر مطمئن نہ ہوئی اور وہ کہنے لگی کہ نہیں تم مجھے اسٹام پیپر پر لکھ کر دو تو **** نے اشٹام پیپر پر یہ عبارت لکھ کردی:

طلاق نامہ

” من کہ مسمے **** ولد **** سکنہ مکان نمبر89 – c2 گلی نمبر290 ،*** کا رہائشی یہ کہ من مظہر کی شادی خانہ آبادی مورخہ 2002۔02۔28 ہمراہ مسماة *** دختر **** جان سکنہ م***سے ہوئی ہے۔ یہ کہ میری بیوی امید سے ہے ، یہ کہ میری بیوی مذکوریہ کی میری ساتھ انڈر سٹینڈنگ نہ ہوئی ہے۔ بار بار سمجھانے سے بھی باز نہ آئی ، یہ کہ بوجہ نافرمانی اور جھگڑا ہو نے  میں نے اپنی بیوی مذکورہ ریحان اختر دختر **** جان کو تین طلاق دے چکا ہوں ، اقرار کرتاہوں کہ میر ابیوی مذکوریہ سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہوگا۔ وہ اپنے قول وفعل کی خودذمہ دار ہوگی۔ طلاق عدت پوری ہونے کے بعد دوسر ی شادی کرسکتی ہے۔ میں نے اسے آزاد کردیا ، طلاق نامہ روبرو گواہان نمبر۱ ***ولد***، نمبر۲ ا***ولد***۔ طلاق نامہ بقامی  ہوش  وحواس وبلا جبر اکراہ تحریر کیا۔ اس کے کوائف بالا درست اور صحیح ہیں ۔ کوئی اور مخفی نہ رکھا ہے”۔

****  کہتاہے کہ ان دونوں تحریروں سے اس کی اپنی بیوی کو طلاق دینے کی کوئی نیت نہ تھی ، بلکہ اس لڑکی کو اطمینان دلانے کے لیے جھوٹ کے طور پر یہ سب کچھ کیا ۔ اس بات کا اقرار ****  حلفاً بھی کرتاہے ۔ واضح رہے کہ **** کی اپنی بیوی سے کسی قسم کی کوئی رنجش وناراضگی نہیں ہے۔ وہ اس کے ساتھ اپنے ازدواجی تعلقات بدستور قارئم رکھنا چاہتاہے، اس کی بیوی اس وقت امید سے ہے ، اور اسے ان تحریروں کا کوئی علم نہیں۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان تحریروں  سے ****  کی بیوی پر کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور اگر واقع ہوئی ہے تو رجوع کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

تحریر

 میں*** ولد **** اس بات کا اقرار کرتاہوں اور اس وقت میں اپنے  پوری ہوش میں ہوں کہ میں نے اپنی بیوی **** بنت **** کو طلاق  دی ہے، طلاق دے دی ہے، طلاق دے دی ہے۔ اب میرا اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق  نہیں ہے ۔ میری طرف سے ہی اپنی عدت پوری کرکے جس کے ساتھ نکاح کرنا چاہے کرسکتی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے اور بچے کے بار ے میں بھی اس کو مکمل اختیار دیتاہوں رکھے یا ختم کرے ، میرا اس کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں **** کی بیوی ***پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور یہ بیوی **** پر حرام ہوچکی ہے۔ اب رجوع یا صلح کی کوئی صورت باقی نہیں ۔ اب*** کا **** اختر کے ساتھ ازدواجی تعلقات باقی رکھنا ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے کہ اول تو یہ جھوٹا اقرارنامہ نہیں ہے بلکہ طلاق نامہ ہے اور طلاق نامہ اس کو کہتے ہیں کہ جس میں طلاق دی جائے، طلاق دینے کی نیت نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ نیت ہو یا نہ ہو طلاق کہنے لکھنے سے طلاق ہوجاتی ہے ۔ حمل میں بھی طلاق ہوجاتی ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved