• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“تم میری طرف سے فارغ ہو” سے طلاق کا حکم

استفتاء

بیوی کا بیان:

ہماری شادی اپریل میں ہوئی تھی۔ شادی کے ٹھیک 15 دن کے بعد شوہر نے کہا کہ ان کی  شروع سے خواہش تھی کہ ان کی شادی سید خاندان میں ہو انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے ماں باپ سے کہا تھا کہ میری وہیں شادی کریں  لیکن نہیں کی مجھے یہ بھی کہا کہ میں ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جو شرعی پردہ کرتی ہو۔  میں پردہ کرتی ہوں مگر شرعی پردہ  نہیں کرتی اور جب انہوں نے یہ سب  کہا   تب میں نے کہا کہ جیسے آپ کہیں گے میں کر لوں گی میں نے کہا تھا میں شرعی پردہ بھی کروں گی لیکن مجھے کہتے تم پہلے سے تو نہیں کرتی تھی۔       جون کے مہینے میں ایک دن میرے شوہر کا پہلے سے ہی بہت سخت موڈ خراب تھا میں نے پوچھا اب میرے ساتھ ایسے ہی رہنا ہے وہ کہتے ہیں ہاں اور پھر  کہا کہ” تم اس گھر میں صرف استعمال کے لیے آئی ہو،  تم میری ماں کی بات مانا کرو اپنا سامان لے کر ان کے کمرے میں چلی جاؤ اور میری طرف سے فارغ ہو” جو مرضی کرو نہ میں تمہارے قریب آؤں گا نہ تم آنا۔تین دن کے بعد شوہر کو دوبارہ اپنی ماں پر غصہ آیا تھا جو کہ میرے اُوپر نکالا گیا جس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا،  میں چپ کر کے ان کی باتیں سنتی تھی انہوں نے مجھے بہت ذلیل کیا اور کہا کہ “جاؤ میری طرف سے آزاد ہو، جو مرضی کرو اپنا سارا سامان اٹھاؤ اور یا تو اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤ یا میرے ماں کے کمرے میں چلی جاؤ”  میرے پاس نہ آنا اور نہ ہی میں تمہارے پاس آؤں گا پھر تھوڑی دیر بعد بولا کہ “میری طرف سے آزاد ہو جہاں مرضی جاؤ ” اور یہ سب غصے اور ہوش و حواس میں کہا تھا اگلے دن دوبارہ میرے اُوپر بلا وجہ غصہ کیا اور لڑائی کی جب  آفس سے آئے تھے تب سے غصے میں تھے میرے سے کوئی بات نہیں کر رہے تھے بہت پوچھا کہ کیوں ایسا کر رہے ہو اور پیار / آرام سے سمجھانے کی کوشش بھی کی لیکن پھر غصے میں کہا” تم اس کمرے سے نکل جاؤ اور میری طرف سے آزاد ہو، اپنا سامان اٹھاؤ اور جہاں مرضی جاؤ “اور بحث کے دوران  اپنی ماں سے کہا “میں اس کو تین لفظ بول دوں گا”۔

            دس اگست کو میں  ماں باپ کے گھر سے رہ کر سسرال واپس گئی تھی اور شوہر کا موڈ پہلے ہی خراب تھا جاتے ہی خود بحث شروع کر دی اور بہت زیادہ جھگڑا کیا میں نے صرف اتنا کہا کہ میں کوئی فضول بات برداشت نہیں کروں گی، آگے سے کہتے کرو گی برداشت کرنی پڑے گی میں نے کہا اگر ایسا ہی کرنا تھا تو مجھے کیوں لے کر آئے تھے۔انہوں نے کہا واپس چلی جاؤ  میں نے کہا ٹھیک ہے میں گھر والوں کو فون کرتی ہو کہ مجھے لینے آجائیں۔ میرے شوہر نے کہا  ہاں کر لو اور سارا سامان بھی لے کر جانا “میری طرف سے آزاد ہو ” پھر غصے میں اپنی ماں کے کمرے میں گئے اور کہا کہ میں اس کو بولنے لگا ہوں۔

         29 اگست کو مغرب کے بعد میں کچن میں کام کر رہی تھی شوہر نے مجھے بلایا کہ میری بات سنو میں گئی تو آگے سے غصے سے مجھے کہتے تم نے آج قرآن پڑھا ہے تسبیح کی ہے  میں نے کہا نہیں ابھی پڑھنا ہےآج درود تنجینا پڑھی تھی  اس لیے نہیں پڑھا آگے سے مجھے غصے میں کہتے میں اپنی ماں کو کہتا تھا  کہ مجھے دیندار عورت لا کر دینا، کہتے تم میرے مطابق ہو ہی نہیں سکتی کہتے چھوڑ دو قرآن نماز سب کچھ میری طرف سے آزاد ہو جو  مرضی کرو جب باہر بغیر پردہ کے نکلو تو میرا نام اپنے نام کے ساتھ نہ لگانا اپنے باپ کا ہی لگانا کہتے کیا اگر تم چلی گئی تو اور نہیں ملیں گی مجھے تم سے زیادہ اچھی اور میرے مطابق ملے گی جاؤ چلی جاؤ اپنے ماں باپ کے گھر اور سارا سامان بھی لے کر جانا اور واپس نہ آنا ۔

یہ جتنی بھی باتیں لکھی ہیں میں حلفا بیان دیتی ہوں کہ سب سچ لکھا ہے۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ میرا نکاح باقی ہے یا نہیں؟

وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا  رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت:*******

نوٹ: شوہر سے دو مرتبہ رابطہ ہوا انہوں نے کہا میں اپنا بیان بھیجتا ہوں لیکن ابھی تک نہیں بھیجا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں عورت کے  بیان کے مطابق ایک بائنہ طلاق واقع ہو چکی ہے جس کی وجہ سے نکاح  ختم ہو گیا ہے لہذا اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہے تو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں جب شوہر نے پہلی مرتبہ لڑائی جھگڑے میں بیوی سے یہ کہا کہ” تم میری طرف سے فارغ ہو”  تو ان الفاظ سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی کیونکہ یہ الفاظ کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہے جن سے غصے کی صورت میں نیت کےبغیر بھی بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو جاتی ہے اور البائن لا يلحق البائن کے تحت متعدد مرتبہ یہ الفاظ بولنے کے باوجود ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔

در مختار(521/4) میں ہے:

 (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة

شامی(4/521) میں ہے:

‌والحاصل ‌أن ‌الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية

وفيه أيضا: البائن لا يلحق البائن 

شامی (5/42)میں ہے:

(‌وينكح ‌مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)

احسن الفتاوی (5/188) میں ہے:

سوال: کوئی شخص بیوی کو کہے “تو فارغ ہے ” یہ کون سا کنایہ ہے؟…… حضرت والا اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔بینوا توجروا

جواب : بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلانیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved