- فتوی نمبر: 34-342
- تاریخ: 06 اپریل 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اسلامی عقائد
استفتاء
کیا امہات المومنین رضی اللہ عنہن اجمعین صرف امت کے مردوں کی مائیں ہیں یا عورتوں کی بھی؟
وضاحت مطلوب ہے: آپ کے ذہن میں اس سے متعلق کوئی اشکال یا سوال ہو تو اسے واضح کردیں۔
جواب وضاحت:میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جو ماں کے ساتھ تشبیہ دی ہے یہ صرف حرمت نکاح کے لئے ہے یعنی صرف امت کے مردوں کی مائیں ہیں اور نبی کے بعد ان سے نکاح نہیں ہوسکتا یا تعظیم کے لئے تشبیہ ہے کہ عظمت کے اعتبار سے تمام مردوں اور عورتوں کی مائیں ہیں ۔اس پر کچھ تصریح اور عبارات سلف بتا دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپﷺ کی ازواج مومن مردوں اور عورتوں دونوں کی مائیں ہیں، اور تشبیہ تعظیم اور حرمت دونوں کے اعتبار سے ہے۔ چنانچہ مردوں کے حق میں تو تعظیم کے ساتھ حرمت نکاح بھی ثابت ہے اور عورتوں کے حق میں صرف تعظیم ہے۔
تفسير القرطبی (14/ 123) میں ہے:
(وأزواجه أمهاتهم) شرف الله تعالى أزواج نبيه صلى الله عليه وسلم بأن جعلهن أمهات المؤمنين، أي في وجوب التعظيم والمبرة والإجلال وحرمة النكاح على الرجال، وحجبهن رضي الله تعالى عنهن بخلاف الأمهات. وقيل: لما كانت شفقتهن عليهم كشفقة الأمهات أنزلن منزلة الأمهات، ثم هذه الأمومة لا توجب ميراثا كأمومة التبني. وجاز تزويج بناتهن، ولا يجعلن أخوات للناس. وسيأتي عدد أزواج النبي صلى الله عليه وسلم في آية التخيير إن شاء الله تعالى. واختلف الناس هل هن أمهات الرجال والنساء أم أمهات الرجال خاصة، على قو لين: فروى الشعبي عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها أن امرأة قالت لها: يا أمه، فقالت لها: لست لك بأم، إنما أنا أم رجالكم. قال ابن العربي: وهو الصحيح. قلت: لا فائدة في اختصاص الحصر في الإباحة للرجال دون النساء، والذي يظهر لي أنهن أمهات الرجال والنساء، تعظيما لحقهن على الرجال والنساء. يدل عليه صدر الآية:” النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم”، وهذا يشمل الرجال والنساء ضرورة. ويدل على ذلك حديث أبي هريرة وجابر، فيكون قوله:” وأزواجه أمهاتهم” عائدا إلى الجميع.
روح المعانی (11/ 149) میں ہے:
وأزواجه أمهاتهم أي منزلات منزلة أمهاتهم في تحريم النكاح واستحقاق التعظيم وأما فيما عدا ذلك من النظر إليهن والخلوة بهن وارثهن ونحو ذلك فهن كالأجنبيات، وفرع على هذا القسطلاني في المواهب أنه لا يقال لبناتهن أخوات المؤمنين في الأصح، والطبرسي وهو شيعي أنه لا يقال لإخوانهن أخوال المؤمنين، ولا يخفى أنه يسر حسوا بارتغاء، وفي المواهب أن في جواز النظر إليهن وجهين أشهرهما المنع، ولكون وجه الشبه مجموع ما ذكر قالت عائشة رضي الله عنها لامرأة قالت لها يا أمه: أنا أم رجالكم لا أم نسائكم أخرجه ابن سعد، وابن المنذر والبيهقي في سننه عنها، ولا ينافي هذا استحقاق التعظيم منهن أيضا.
وأخرج ابن سعد عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها أنها قالت أنا أم الرجال منكم والنساء وعليه يكون ما ذكر وجه الشبه بالنسبة إلى الرجال وأما بالنسبة إلى النساء فهو استحقاق التعظيم،
تفسیر عثمانی(3/116) میں ہے:
ف۔ازواج مطہرات مومنین کی مائیں ہیں یعنی دینی مائیں ہیں تعظیم و احترام میں اور بعض احکام میں جو ان کے لئے شریعت سے ثابت ہوں ۔ کل احکام میں نہیں ۔
بیان القرآن (3/167) میں ہے:
ازواج کا امہات ہونا باعتبارتعظیم کے ہے اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے اس لئے تحریم بھی واقع ہوئی ہے۔قال تعالی : و لا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا الخ اور بے حجابی کا تعظیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ احتجاب اقرب الی التعظیم ہے ،اس لئے ان احکام یعنی جواز خلوت و نظر و مس و امثالہا میں امومیت ثابت نہیں اور جب امومیت کی اصل حقیقت تعظیم ہے تو ازواج مطہرات ام المومنات بھی ہیں ۔چناچہ حضرت ام سلمہ کا ارشاد ہے: انا ام الرجال منکم و النساء، اخرجہ فی الروح عن ابن سعد اور حضرت عائشہ سے جو منقول ہے : انا ام رجالکم لا ام نسائکم اخرجہ فی الروح ایضآ عن ابن سعد و سنن بیہقی وہ باعتبار مجموعہ اصل و فرع کے جوانتفاء فرع یعنی حرمت نکاح سے مرتفع ہے کیونکہ حرمت نکاح موقوف ہے قابلیت نکاح پر اور وہ نساء میں نساء کے ساتھ مفقود ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved