- فتوی نمبر: 26-238
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اصول دین
استفتاء
1)انگليوں کے پوروں پر تسبیح پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟
2)اور کیا انگلی کے ہر ہرجوڑکو حساب کرکے تسبیح کرنا خلاف سنت ہے؟ایک کلپ ساتھ بھیجاہے جس میں بتا یا گیا ہے کہ انگلی کے صرف اوپر والے جوڑ سے تسبیح کر نا درست ہے جبکہ درمیا ن وا لے اور ہتھیلی کے سا تھ والے جوڑ سے تسبیح کر نا خلاف سنت ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1)انگلیوں پر تسبیح پڑھنے کے تین طریقے ہیں ۔
پہلا طریقہ ۔ ہر ہر انگلی کو ایک شمار کر کے تسبیح پڑھنا۔
دوسرا طریقہ ۔عرب میں انگلیو ں کے اشاروں سے حساب کیا جاتاتھا ان اشاروں کی گنتی پر تسبیح کرنا ۔
تیسرا طریقہ ۔انگلی کے ہر جوڑکو ایک ایک شمار کرکے تسبیح پڑھنا۔
2) انگلی کے ہر ہر جوڑ کو حساب کر کے تسبیح کر ناخلاف سنت نہیں کیونکہ بعض محدثین نے اس کو بھی حدیث کے مفہوم میں شامل کیا ہےنیز بعض احادیث میں انگلیوں کے بجائے ہا تھ سے تسبیح کا ذکر ہے جبکہ شارحین کے مطابق (انامل ) انگلیوں اور ہاتھ سے تسبیح سے اصل غرض اللہ کی یاد میں اپنے اعضاء کو استعمال کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالی ٰ کی نافرمانی کے کاموں میں اعضاء بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اعضا کو تسبیح میں جس طرح بھی استعمال کیاجائے منع نہیں ہے۔
سنن أبى داود (رقم الحدیث:1503)میں ہے:
حدثنا مسدد حدثنا عبد الله بن داود عن هانئ بن عثمان عن حميضة بنت ياسر عن يسيرة أخبرتها أن النبى ﷺأمرهن أن يراعين بالتكبير والتقديس والتهليل وأن يعقدن بالأنامل فإنهن مسئولات مستنطقات.
سنن أبى داود (رقم الحدیث :1504)میں ہے:
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة ومحمد بن قدامة – فى آخرين – قالوا حدثنا عثام عن الأعمش عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال رأيت رسول الله ﷺ يعقد التسبيح قال ابن قدامة بيمينه.
“الفتوحات الربانيۃعلى الأذكار النوويۃ “لمحمد بن علان الصديقی الشافعی المتوفى: 1057 ھ(1/ 249) میں ہے:
قوله: (وان يَعقِدْنَ بالأَنامل) الباء إما زائدة في الإثبات على مذهب جماعة أو للاستعانة أي يعقدن عدد التسبيح مستعينات بالأنامل عند الحاجة إلى ذلك قاله ابن حجر الهيثمي……. ثم العقد المذكور يحتمل أن يراد به أنه يعد بنفس الأنامل أو بجملة الأصابع قال ابن حجر في شرح المشكاة والأول أقرب اه، وفي الحرز والعقد بالمفاصل مشهور أن يضع إبهامه في كل ذكر على مفصل والعقد بالأصابع أن يعقدها ثم يفتحها أما العقد برؤوس الأصابع فباتكائها على ما يحاذيها من البدن على ما قرره الفقهاء في صلاة التسبيح ونحوها وأما بوضعها على الكف فماله بالعقد على الأصابع وأما بوضع الإبهام على الرؤوس اه. وفي شرح المشكاة وظاهر كلام أئمتنا المتأخرين إن المراد بالعقد هنا ما يتعارفه الناس وقال غيره المراد عقد الحساب لا الذي يعلمه الناس الآن
مرقاة المفاتيح (5/145)میں ہے:
فإنهن أي الأنامل كسائر الأعضاء مسؤولات أي يسألن يوم القيامة عما اكتسبن وبأي شيء استعملن مستنطقات بفتح الطاء أي متكلمات بخلق النطق فيها فيشهدن لصاحبهن أو عليه بما اكتسبه قال تعالى يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم وفيه حث على استعمال الأعضاء فيما يرضى الرب تعالى وتعريض بالتحفظ عن الفواحش والآثام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved