• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

یو ایس بی کرنسی کا شرعی حکم

استفتاء

ہمارے پاس  کرنسی    تین کروڑ پاک روپے ہے ۔  ہم وہاں سے ڈیجیٹل سے   یو ایس بی   کرنسی میں  تبدیل   کروا دیتے ہیں۔   یو ایس بی  ڈیجیٹل سی اگلی شکل ہے آسان الفاظ میں     پروگرام کوڈ  ہے بس  جو  صرف  ایک میل یا  یو ایس بی میں لے جایا سکتا ہے کسی بھی  ملک  میں ۔ اس طرح وہ کرنسی   آف شور    ہو کر   اگلے ملک  بغیر  درمیانی قانونی   ٹیکس  یا گورنمنٹ   منتقل ہو جاتی ہے بلکہ  اگلے آف شور  بزنس میں انوسٹ بھی ہو جاتی ہے ۔  سوال  اب یہ ہے  مذکورہ صورت میں   کرنسی کی منتقلی   یا   کاروبار   یا  آف شور        کیا  شرعی طور پر درست ہے ؟

وضاحت مطلوب ہے: یو ایس بی کرنسی کیا ہے؟ کیا یہ کرپٹو کرنسی ہے؟ اگر نہیں تو اس کی مکمل تفصیل فراہم کر دیں۔آف شور بزنس کس چیز کا ہے؟

جواب وضاحت: یو ایس بی ۔  یہ پروگرام بیس کرنسی ہےآسان  الفاظ میں بڑی سے  بڑی اور انتہائی رقم  بھی     پروگرامنگ  کوڈز    ہوتے ہیں ان میں ہوتی ہے ۔ اسے ایک ملک سے دوسرے ملک لے جاسکتے ہیں  ۔  یہ خفیہ کوڈذ پر مشتمل ہوتی ہے اور بلیک ورلڈ کی ایجاد ہے ۔ یہ کرپٹو کرنسی  کی  ایڈوانس شکل ہے جو صرف      ہندسوں کے کوڈز  پر مبنی ہوتی ہے۔ اور یہ کوڈز کہیں  بھی کسی اچھی ملک   کے بینک میں جا کر   اوپن کر کے   کرنسی کا حصول  کیا جا سکتا ہے  ۔آف شور     بزنس کسی بھی  چیز کا ہو سکتا ہے کپڑا   سٹاک ایکسچینج   شاپنگ مالز       زیادہ  تر    شیئرز  کا  ہوتا ہے ۔ اور یہ کمپنیاں  ان جزائر پر کھولیں جاتی ہیں   جہاں  دنیا کے ٹیکسز لاگو نہیں ہوتے ۔آسان الفاظ میں    اپنے ملک  اور درمیانی ممالک کے ٹیکسز اور قوانین کو    بائی  پاس کیا جاتا ہے  اور اگلے ملک میں  پیسہ    بطور کاروبار استعمال ہوتا ہے  اور حکومتی نگاہ میں آئے بغیر  بینکوں میں ڈپازٹ (جمع)  ہو جاتا ہے ۔

وضاحت مطلوب ہے: دوسرے ملک میں جب آپ کوڈ بذریعہ یو ایس بی لے جاتے ہیں تو وہاں پر اس کوڈ کے بدلے میں آپ کو رقم کون دیتا ہے؟ کیا اس کوڈ کو بطور کوڈ ہی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا پھر کسی ملک کی قانونی کرنسی میں اس کو تبدیل کروا کر استعمال کیا جاتا ہے؟ کوئی شخص اگر اپنی ملکیتی کرنسی کو یو ایس بی کوڈ میں تبدیل کرنا چاہے تو  اس کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ تفصیل سے جوابات دیں۔

جواب وضاحت: ان کوڈز   کے ذریعے     دوسرے ممالک میں    کسی بھی شکل میں کرنسی ڈالر،  پاونڈ، یورو اور   ریال   میں لی جاسکتی  ہیں۔رقم    بذریعہ  بینک وصول ہوتی ہے    یا    تھرڈ پارٹی   یا  منی کارٹیل   کے ذریعے آ جاتی ہے ۔ یا   کسی  انویسٹر    کے کاروبار میں شریک   کر کے    اصل حالت میں وصول کی جا سکتی ہے      ان کوڈز  کو   بدلا  جاتا ہے  انٹرنیشنل  کریڈٹ کارڈز میں   پھر  کچھ بھی کہیں بھی خریدا اور بیچا جا سکتا ہے ۔

اگر  کوئی شخص اپنی کرنسی کو کوڈذ میں بدلنا چاہے     جو کہ  کم سے کم   رقم   اگر پاکستانی ہے تو تو تین کروڑ سے زائد  ہونی چاہیے  ، وہ بدل سکتا ہے مگر   یہ کوڈز کرنسی رسائی   ہر شہری   کو حاصل نہیں اور نہ  ہی ہر شخص کر سکتا ہے  صرف مخصوص لوگ  ہی   کر سکتے ہیں ۔   یہ پاکستان میں عام  نہیں ۔ کرنسی کی یہ ترسیلات زیادہ تر   آف شور  کمپنیوں  کے بنانے میں زیادہ کارآمد ہوتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ طریقے سے کرنسی کو یو ایس بی کوڈز میں تبدیل کرنا اور آگے اسے استعمال کرنا فی نفسہ جائز ہے بشرطیکہ ناجائز ہونے کی کوئی اور وجہ نہ ہو  مثلاً حکومتی  جائز  اور مبنی بر مصلحت قانون کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔

توجیہ : سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق یو ایس بی کرنسی اصلا کوئی کرنسی نہیں ہے بلکہ صرف کسی بھی ملک کی کرنسی کو ایک ملک سے حکومتی نگاہ میں لائے بغیر  دوسرے ملک وغیرہ لے جانے کا ایک ذریعہ ہے یعنی یہ حوالہ ہنڈی کی ایک جدید شکل ہے جسے بڑے پیمانے پر رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے   جس کی ترتیب یہ بنائی گئی ہے کہ مختلف کمپنیاں جو یہ سہولت فراہم کرتی ہیں وہ صارف سے رقم لے کر  اس کو ضمانت (رسید) کے طور پر کوڈز دے دیتی  ہیں   جس کوڈ کے ذریعے  کسی دوسرے ملک میں جا کر کسی ایسی ہی کمپنی  کو  یہ کوڈ دکھا  کر دوبارہ کرنسی حاصل کی جاسکتی  ہے  یا  ایسے  لوگوں کے کاروبار میں انویسٹ کی جاسکتی ہے جو اسے قبول کرنے پر تیار ہوں جیساکہ بینک لوگوں سے رقم لے کر انہیں اے ٹی ایم کارڈ دے دیتا ہے جس کی بنا پر کسی بھی ایسی جگہ /مشین سے دوبار رقم بھی لی جاسکتی ہے یا کہیں بھی اس کی بنا پر پیمنٹ کی جاسکتی ہے جہاں اسے قبول کیا جاتا ہو لہذا مذکورہ صورت فی نفسہ جائز بنتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved