• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

استاد اور ادارے کے درمیان باہمی معاہدے کی بناء پر تنخواہ روکنے کا حکم

استفتاء

میں ایک نجی تعلیمی ادارے میں بطور معلم تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا۔ میرے اور ادارے کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا جو مارچ 2025 تک نافذ العمل تھا۔ اس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی:

“Teacher leaving during the session will not get security refund and also salary of current month.”

ترجمہ: مدت معاہدہ کے دوران جو ٹیچر  سکول چھوڑے گا وہ سیکیورٹی کی رقم اور جاری ماہ کی تنخواہ حاصل نہیں کرے گا۔

معاہدے کے آغاز پر ادارے نے میری اصل تعلیمی ڈگری سیکیورٹی کے طور پر رکھ لی تھی، نہ کہ تنخواہ۔

جب مارچ 2025 میں معاہدہ ختم ہو گیا، تو سالانہ نتائج کے دن ادارے نے زبانی طور پر کہا کہ ہم نیا معاہدہ کریں گے، لیکن 16 مئی 2025 تک کوئی تحریری معاہدہ عمل میں نہیں لایا گیا۔اسی دوران مجھے ایک نیم سرکاری ادارے (پاکستان ایئر فورس سے وابستہ) میں ملازمت کی فوری پیشکش ہوئی۔ یہ سب اچانک اور عذر کی بنیاد پر پیش آیا، اور میں نے فوری فیصلہ کیا۔ میں نے ادارے کو 13 مئی کو باقاعدہ اطلاع دی کہ مجھے نیا ادارہ جوائن کرنا ہے اور 16 مئی کو بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔جب میں نے ڈگری، ایکسپریئنس لیٹر اور یکم اپریل سے 16 مئی یعنی مکمل 46 دن کی تنخواہ کا مطالبہ کیا، تو ادارے نے ڈگری اور لیٹر دے دیا لیکن ساری تنخواہ روک لی اور کہا کہ”ہمارے لیے یہ تنخواہ روکنا شرعاً جائز ہے، اگر آپ کو اعتراض ہے تو فتویٰ لا کر دیں۔”

میں نے مؤدبانہ عرض کیا کہ یہ معاہدہ مارچ میں ختم ہو چکا ہے، اب معاہدے کی شرط کیسے لاگو ہو سکتی ہے؟ اور میں نے یہ ادارہ ذاتی خواہش سے نہیں بلکہ عذر کی بنیاد پر چھوڑا ہے۔ لیکن ادارہ بضد رہا کہ وہ اس کا شرعی حق رکھتے ہیں۔لہٰذا میں مندرجہ ذیل سوالات میں شرعی رہنمائی کا طلب گار ہوں:

  1. جب معاہدہ مارچ 2025 میں مکمل ہو چکا ہو اور اس کے بعد کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا ہو، تو کیا ادارہ “دورانِ سیشن چھوڑنے” والی شرط کے تحت میری 46 دن کی مکمل تنخواہ روک سکتا ہے؟
  2. ادارے نے ڈگری کو سیکیورٹی کے طور پر رکھا ہو، نہ کہ ایک ماہ کی تنخواہ، اور بعد میں ڈگری واپس کر دی ہو، تو کیا وہ بغیر اطلاع ایک ماہ کی تنخواہ کو سیکیورٹی بنا کر روک سکتے ہیں؟
  3. اگر میں نے ادارہ عذر و مجبوری کی بنیاد پر چھوڑا ہو (یعنی اچانک سرکاری پیشکش کی بنیاد پر)، تو کیا ایسی صورت میں معاہدے کی “نوٹس” والی شرط لاگو ہوتی ہے؟ اور کیا اس بنیاد پر تنخواہ روکنا جائز ہے؟
  4. بعض ادارے ایک دن کی غیر حاضری پر دو دن کی تنخواہ کاٹتے ہیں، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
  5. اگر استاد ہفتے یا پیر کو چھٹی کرے، تو بعض دفعہ اداره اتوار یا ساتھ والے دن کی تنخواہ بھی کاٹ لیتا ہے۔ کیا یہ شرعاً درست ہے؟
  6. بعض نجی ادارے اساتذہ اور طلبہ پر جبرا مالی جرمانے (فائن) لگاتے ہیں کیا ایسا کرنا شرعی اصولوں کے مطابق درست ہے؟

ادارے کا مؤقف:

محترم یہ ادارے اور استاد کے درمیان تحریری و باہمی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے مطابق مذکورہ فریق نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی جس کے عوض ادارے نے اُس فریق کی چالیس دن کی اُجرت روکی ہوئی ہے اور یہ بطور سکیورٹی دونوں فریقین کے مابین  طے شدہ تھا۔ جب کہ یہ مدت معاہدہ ختم ہوچکا تھا اور زبانی طور پر اُن کو آگاہ کردیا گیا تھا کہ جلد نیا معاہدہ اجرت کےمطابق کیا جائیگا اس سے پہلے ہی وہ چھوڑ کر چلے  گئے۔

اب سوال یہ کہ کیا اس معاہدے کی شرائط اُن پر لاگو ہوں گی؟کیا اس طرح سکیورٹی ضبط کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟سند جو کہ سکیورٹی کے طورُپر دی گئی تھی، وہ واپس کرکے اُجرت کو بطور سکیورٹی رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

یہ معاہدہ اسٹیپ اسکول، ملینیم کیمپس کا ہے، جس میں ایک استاد (ٹیچر) کی تقرری اور اس کے قواعد و ضوابط درج ہیں۔

ٹیچر اور سکول کے درمیان معاہدہ کا ترجمہ یہ ہے:

یہ معاہدہ مسٹر/مس/مسز محمد عامر حمزہ ولد  نذیر محمود کے ساتھ کیا گیا ہے، جن کی تقرری بطور ٹیچر اس اسکول میں ہوئی ہے۔

معاہدے کی شرائط یہ ہیں:

1۔میں نے بطور ٹیچر اپنی تقرری قبول کر لی ہے، تاریخ _ سے، ماہانہ تنخواہ _ روپے ہوگی، اور اس کے علاوہ اسکول کی پالیسی کے علاوہ کسی اور قسم کا مطالبہ نہیں کروں گا/گی۔

2۔ایک سال مکمل ہونے کے بعد اور سروس کے دوران سالانہ تنخواہ میں اضافہ صرف ان اساتذہ کو ملے گا جن کی سالانہ چھٹیاں 20 دن سے کم ہوں۔

3۔ایک مہینے کی تنخواہ کے برابر رقم بطور سکیورٹی جمع کروانی ہوگی، جو مارچ 31 تک سیشن مکمل ہونے پر واپس ملے گی۔ اگر ٹیچر سیشن مکمل ہونے سے پہلے چلا جائے تو سیکیورٹی ضبط یا ایک مہینے کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔

4۔جو اسٹاف ممبر 45 دن پورے ہونے سے پہلے چھوڑ جائے، اسے تنخواہ نہیں دی جائے گی۔

5۔پہلی تنخواہ 40 دن کی سروس کے بعد ملے گی۔

6۔تجربے کا سرٹیفیکیٹ ایک سال مکمل ہونے سے پہلے نہیں دیا جائے گا۔

7۔اگر ٹیچر کام چھوڑ دے تو سیکیورٹی واپس نہیں ہوگی اور اس مہینے کی تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔

عام قواعد:

اسکول کے اوقات کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔ دو بار دیر سے آنے پر ایک غیرحاضری شمار ہوگی۔

1۔اگر جمعہ اور پیر کو غیر حاضر رہیں یا کسی سرکاری چھٹی کے ساتھ غیر حاضری لیں تو یہ دو غیرحاضری شمار ہوگی۔

2۔اگر کسی مہینے میں دو سے زیادہ غیرحاضری ہو تو کام کے دنوں کی تنخواہ نہیں ملے گی۔

3۔سرکاری چھٹیوں (ہفتہ اور اتوار) کی کوئی تنخواہ نہیں ملے گی۔

4۔اسکول میں موبائل فون کا استعمال سخت منع ہے، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ یا فوری معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

چھٹیوں کے اصول:

1۔اگر کوئی استاد تین دن مسلسل بغیر اطلاع کے غیر حاضر ہو تو اسکول انتظامیہ نیا  استاد رکھ سکتی ہے اور پرانے استاد کو دوبارہ کنٹریکٹ نہیں دے گی (سوائے اس صورت کے جب خالی آسامی موجود ہو)۔

2۔کوئی بھی تنخواہ کے ساتھ چھٹی نہیں ہے۔

اساتذہ کا ضابطہ اخلاق

1۔استاد طلبہ کے ساتھ، چاہے کلاس کے اندر ہوں یا باہر، نہایت شائستگی سے پیش آئیں گے اور کوئی تحقیر آمیز بات نہیں کریں گے۔

2۔استاد کلاس میں اپنے ساتھی اساتذہ پر غیر ضروری تنقید سے پرہیز کریں گے۔

3۔اساتذہ طلبہ اور ساتھیوں کے ساتھ مذہب یا کسی سیاسی مسئلے پر بات نہیں کریں گے۔

4۔طلبہ کو جسمانی سزا یا ایسی کوئی سزا نہیں دی جائے گی جو ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرے۔ اس کے بجائے استاد صبر، تحمل اور شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلبہ کے لیے ایک مثالی کردار بننے کی کوشش کریں گے۔ اگر استاد کو لگے کہ سزا کی ضرورت ہے تو وہ پرنسپل سے بات کریں گے۔

5۔کسی بھی قسم کی رقم پرنسپل کی اجازت کے بغیر جمع نہیں کی جائے گی۔

6۔خاص توجہ درج ذیل پہلوؤں پر دی جائے گی:

(I) وقت کی پابندی

(II) سبق کی تیاری

(III) نوٹ بک کی تیاری

(IV) کلاس میں غیر متعلقہ باتوں سے پرہیز

(V) کمزور طلبہ پر خصوصی توجہ

7۔حاضری رجسٹر، رپورٹ کارڈ، امتحانی نتائج، اسٹوڈنٹ ڈائری اور ٹیچر ڈائری کی تکمیل۔

8۔اساتذہ کو کلاس روم میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

9۔ہر استاد سالانہ، سہ ماہی اور ہفتہ وار نصاب تیار کرے گا اور اسے کلاس روم اور دفتر میں آویزاں کرے گا۔

10۔استاد کلاس روم اور پورے اسکول کے ماحول کی صفائی کا خاص خیال رکھے گا۔

11۔استاد کسی بھی دوسری ڈیوٹی ادا کرنے کا پابند ہوگا جیسے اسمبلی، آف ٹائم میں نگرانی یا غیر حاضر اساتذہ کی جگہ ڈیوٹی دینا وغیرہ۔

میں تصدیق کرتا/کرتی ہوں کہ میں نے اس معاہدے کی شرائط و ضوابط پڑھ لیے ہیں اور میں نے اس معاہدے کو تسلیم کیا ہے۔

دستخط: _____

ڈائریکٹر: _____

تاریخ: 14 نومبر 2023

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں سکول انتظامیہ اور ٹیچر کے ما بین تحریری معاہدے کی مدت ختم ہو جانے کے بعد بھی چونکہ ٹیچر کام پر آ رہا تھا اس لئے یہی سمجھا جائے گا کہ ٹیچر  سابقہ شرائط پر ہی کام کر رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ٹیچر کو تنخواہ بھی سابقہ معاہدے کے بقدر مل رہی تھی اگرچہ ٹیچر کے لیے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں تھا لیکن اس کے باوجود سکول کے لئے ٹیچر کی 40 دن کی تنخواہ روکنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ مالی جرمانہ ہے اور مالی جرمانہ شرعاً  جائز نہیں چاہے اس کا معاہدہ بھی کر لیا جائے۔

الدر المختار مع ردالمحتار (9/9) میں ہے:

وهل ‌تنعقد ‌بالتعاطي؟

(قوله وهل ‌تنعقد ‌بالتعاطي) قال في الوهبانية: وقد جوزوها في القدور تعاطيا قال الشرنبلالي من الظهيرية: استأجر من آخر قدورا بغير أعيانها لا يجوز للتفاوت بينها صغرا وكبرا، فلو قبلها المستأجر على الكراء الأول جاز وتكون هذه إجارة مبتدئة بالتعاطي، وتخصيصه في النظم بالقدور اتباع للنقل وإلا فهو مطرد في غيرها.

ففي البزازية غير الإجارة الطويلة ينعقد بالتعاطي لا الطويلة؛ لأن الأجرة غير معلومة؛ لأنها تكون في سنة دانقا أو أقل أو أكثر اهـ.

وفي التتارخانية عن التتمة: سألت أبا يوسف  رحمه الله تعالى عن الرجل يدخل السفينة أو يحتجم أو يدخل الحمام أو يشرب الماء من السقاء ثم يدفع الأجرة وثمن الماء.

قال: يجوز استحسانا ولا يحتاج إلى العقد قبل ذلك اهـ.

قلت: ومنه ما قدمناه عنها من انعقادها بغير لفظ، وسيأتي في المتفرقات عن الأشباه السكوت في الإجارة رضا وقبول

مجلۃ الأحكام (ص: 82) میں ہے:

( المادة 425 ) : الأجيرالخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة .

دررالحکام شرح مجلۃ  الاحکا م(مادة:425،ص:387) میں ہے:

اما الاجیر الذی یسلم نفسه بعض المدة فیستحق من الاجرة مایلحق ذلک البعض من الاجرة۔

شامی (6/98) میں ہے:

وفی شرح الآثار التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ والحاصل ان المذهب عدم التعزیر باخذ المال ۔۔۔۔۔فی البزازیةان معنی التعزیر باخذ المال علی القول به امساک شیئ من ماله عنه مدة لینزجر ثم یعیده الحاکم الیه ،لاان یاخذه الحاکم لنفسه او لبیت المال کما یتوهمه الظلمة ،اذ لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved