• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وہم کے مریض کی طلاق

استفتاء

مجھے بچپن ہی سے سوچنے کی عادت ہے ذہن میں مختلف قسم کے خیالات آتے رہتے ہیں ، کوئی بھی کام کروں مگر ذہن کہیں اور ہوتاہے۔ جناب مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو تقریبا ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوچکاہے، شادی کے تقریبا چارہ ماہ بعد مارچ 1996 کو ایک معمولی سی بات پر بڑے بھائی سے ناراض ہوا بات ختم بھی ہوگئی کچھ دیربعد دکان پر بیٹھا تھا کہ خیالات آنے لگے اور انہیں خیالات میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر شک میں پڑگیا کیا زبان سے الفاظ توادانہیں ہوئے کیونکہ خیالات میں اکثرانسان اپنی زبان سے بڑبڑاتابھی ہے اس لیے میں بہت پریشان ہوا،اور ہر وقت اس مسئلے کے متعلق سوچنے لگا۔ خیالات تو پہلے بھی آتے تھے مگر اب اس مسئلے کے متعلق سوچ سوچ کر بہت پریشان ہوجاتا اس لیے ایک امام صاحب کے پاس گیا اور اپنا اپنا مسئلہ بیان کیا انہوں نے کہا  اگر زبان ہل گئی ہے تو پھر طلاق ہوگئی اور اگر نہیں ہلی ہے ۔ اس لیے ہروقت اس مسئلے کے متعلق سوچتارہتا کبھی اس نتیجے پر پہنچتا کہ زبان ہل گئی ہے اور کبھی یہ خیال کرتاکہ زبان نہیں ہلی ہے۔ دن رات سوچ کہ بہت پریشان رہنے لگا ایک دن کسی عالم کے پاس گیا انہوں نے کہ اگر آواز تمہارے کانوں تک آئی ہے اور تم نے اسے سنا ہے تو پھر طلاق ہوگئی، وگرنہ کچھ نہیں ہوا۔ یہ جواب سن کر اطمینان ہوا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ اگر میری آواز پیدابھی ہوئی ہے تو آواز اتنی اونچی نہیں تھی جسے میں سن سکوں،مگر یہ بات میرے ذہن پر نقش ہوچکی تھی ایک دن اخبار پڑھ رہا تھا کہ ا س میں کچھ طلاق کے متعلق لکھا تھا بس ذہن میں پھر وہی خیالات آنے لگے، پھر انہیں سوچوں میں گم ہوگیا،جھگڑے کے وقت جو خیال مجھے آنے تھے اور طلاق کے متعلق جو میں نے کہاتھامیں اپنی بیوی کو طلاق دیتاہوں۔

اب میں ہر وقت اسی بات کو دہراتا ہوں جو میں نے خیال میں کہے تھے مگر طلاق کو بجائے پانی کا لفظ استعمال کرتا  یعنی اپنی بیوی کو پانی دیتاہوں اور طلاق کے لفظ سےا س لیے پرہیز کرتاکہ کہیں سچ مچ نہ ہوجائے ۔ اب میں اس  جملے کو ویسے ہی ادا کرتا جیسے جھگڑا والے خیال کے متعلق کہے تھے، ہروقت سوچنے کی وجہ سے بیمار رہنے لگا ۔ایک دن اس طرح سوچ  ۔۔۔کھا کہ پانی کی جگہ لفظ طلاق نکل گیا حالانکہ میں یہ کہنا نہیں چاہتاتھا مختلف علماء کرام کے پاس جاکر اپنے مسئلے کے متعلق پوچھا کئی کہتےتم کو وہم اور شک  ہے اس کا کوئی کوئی علاج نہیں ہے۔ مگر دل کو سکون نہیں آتاتھا مسلسل ایک سال تک سوچ میں ٹینشن اور ڈیپریشن کا شکار ہوچکا تھا اور میرے جسم کے اندر ایک غبارسا تھا جسے میں نکالنا چاہتاتھا۔23فروری 1997 کو میں ایک مفتی صاحب کے پاس گیا انہوں نے مجھے دوسرے عالم کو ملنے کو کہا جس عالم سے انہوں نے مجھے ملنے کو کہا میں ان سے پہلے بھی مل چکاتھا۔ اس لیے میں ان کے پاس نہ گیا۔ گھر واپس آگیا ۔ اس مسئلے کے متعلق میں بہت دربدر کی ٹھوکریں کھا چکاتھا اورا س سے بڑھ کر یہ کہ میں اللہ تعالیٰ سے اورقبر کے عذاب سے بہت ڈرتاہوں اگر طلاق ہوچکی ہے تومیں یہ گناہ والی زندگی ہرگز نہیں گزار سکتاہوں میں نے سوچا اس  مسئلے کو یہی ختم کردو اور میں اپنی بیوی  کو طلاق دی میں جس وقت یہ الفاظ کہے تھے میری علاوہ کسی نےیہ الفاظ نہیں سنے۔

الفاظ یہ تھے” میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی”

میں نے اس دن یہ جملے کئی دفعہ کہے بلکہ اس سے اگلے دن بھی میں یہ جملے کئی دفعہ کہے ایک سال کا غبار میرے اندرتھا اور میں نے جی بھر کریہ جملے کہے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالی ۔ یہ الفاظ میں کسی  کے سامنے نہیں نکالتاتھا بلکہ جہاں کہیں تنہا ہوتاتھا دہی یہ الفاظ اپنی زبان سے نکالتاتھا۔

ڈاکٹر کا بیان

گزارش ہے کہ یہ شخص OCD  جیسے ذہنی مرض کا شکارہے۔ اس بیماری میں انسان کو مختلف وسوسے اور وہم بار بار آتے ہیں جتنا وہ روکتاہے یہ اتنی شدت اختیار کرتےہیں اور انسان کی نیت کے بغیر الٹے سیدھے ہر طرح کے خیالات بشمول ۔۔۔۔کے بارے میں غلط اور گندے خیالات اوربعض اوقات اس شک میں پڑتے ہیں کہ زبان سے لفظ طلاق ادا نہ ادا ہوجائے یا ہو نہ گیاہو۔

اس کی راہنمائی اور مدد کریں اور اسے یقین دلائیں کہ   إنما الأعمال بالنيات کے مصداق اس طرح طلاق نہیں ہوتی ہے۔ ضرورت پڑے تو مجھ سےفون پر بات کریں۔

جناب مسئلہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی سے مقعد والی  یعنی پیچھے سے جماع کیا مکمل جماع نہیں ہوا بس تھوڑاسا دخول ہواتھا، یہ فعل لواطت کہلاتی ہے جو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کرتی تھی میں یہ سمجھتاتھا کہ یہ برافعل کرنے والے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں سے ہوں گے جب میں آرام سے بیٹھا تو مجھے اپنے اس فعل پر بہت پریشانی ہوئی چونکہ میرے دماغ میں یہ خیال تھا کہ اب میں نبی پاک کا امتی نہیں رہا تو میں سمجھا شاید نکاح ٹوٹ گیا ہے ۔ میں نے اپنی بیوی سےکہا کہ اب تم میری بہنوں جیسی ہوں ، اس میں طلاق کی نیت نہیں تھی بس حضرت لوط والی بات میرے دماغ میں تھی۔

یہ کافی پرانی بات ہے مجھے درست یا د نہیں مگر کچھ وہم یا شک ہے کہ میں نے شاید یہ بھی کہا:

۱۔میری بیوی میری بہن ہے۔

۲۔میں نبی پاک ﷺ کا امتی نہیں رہا۔

۳۔ اب ہمارا نکاح نہیں رہا یا ٹوٹ گیا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سائل نے جو صورت حال سوالنامہ میں ذکر کی ہے  اس سے ظاہر ہوتاہے کہ سائل ذہنی طور پر وہم کا مریض ہے، لہذا مذکورہ صورت میں سائل کے الفاظ طلاق زبان کہنے کے باوجود طلاق واقع نہ ہوگی۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved