• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والد نے زندگی میں بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا تو اب بھائی بہنوں کا حصہ کیسے دیں؟

استفتاء

میرا آپ سے شرعی وراثت کا سوال ہے امید کرتا ہوں آپ رہنمائی فرمائیں گے۔

اسلام میں بہنوں اور بیٹیوں کی جائیداد میں قانونی وراثت  تو ہوتی ہے مگر عملی طور پر حصہ ادا نہیں کیا جاتا۔میرے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ ہم دو بھائی ہیں اور تین بہنیں ہیں۔( ایک بہن والدین کے فوت ہونے  کے بعد فوت ہوئی)

جائیداد  کی تفصیل:

والد نے اپنی زندگی میں ہی ہمیں 10 مرلہ مکان ، چار کنال بنجر زمین برائے کھیت اور برائے چارہ ، اور 3کنال (درختوں والی زمین)   ہم دو بھائیوں میں تقسیم کردی تھی جن میں سے میرا حصہ 5 مرلہ مکان، 2 کنال زمین برائے کھیت اور چارہ  اور  درختوں والی زمین  میں سے ایک کنال دس مرلہ ہے، اتنا ہی حصہ بھائی کو بھی ملا ہے۔

میں اپنی 3 بہنوں کو وراثت میں سے  کیسے حصہ  دے سکتا ہوں؟ زمین یا زمین کے بدلے پیسے دوں تو کس حساب سےدوں ؟ہمارے ہاں ایبٹ آباد کے دیہی علاقے میں زمین کی خرید و فروخت عام طور پر نہیں  ہوتی۔ ایسی صورت میں کیا پٹواری سے قیمت کا اندازہ کریں یا کوئی اور شرعی  طریقہ ہے تاکہ میں اپنی بہنوں کا حق ادا کر سکوں۔

وضاحت مطلوب ہے: 1۔یہ وراثت کس کی تھی والدکی ،یا والدہ کی؟2۔تقسیم ان کی زندگی میں ہوئی یا وفات کے بعد؟3۔  بہنوں کو حصہ کیوں نہیں دیا؟ اور مرحومہ بہن کے ورثاء میں کون کون ہیں؟

جواب وضاحت: 1۔ یہ وراثت میرے والد صاحب کی طرف سے ہے۔2۔ یہ تقسیم ان کی زندگی میں   ہوئی۔ 3۔بہنوں  کو حصہ نہ دینے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی، علاقائی رسم ورواج کی وجہ سے نہیں دیا۔ مرحومہ بہن کے ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  اگر  آپ کے والد صاحب نے صحت وتندرستی کے زمانے میں آپ دو بھائیوں کو جائیداد دی اور آپ دونوں نے اس پر قبضہ بھی کرلیا تو یہ جائیداد والد کی طرف سے آپ دونوں کو ہبہ شمار ہوگی اس میں کسی کا کوئی حق نہیں البتہ آپ کے والد کا بیٹیوں کو جائیداد میں سے بالکل حصہ نہ دینا گناہ کی بات تھی  اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ والد صاحب گناہ گار نہ رہیں تو آپ  کو  جو جائیداد ملی ہے اس میں سے بہنوں کا حصہ  دےدیں یعنی کل ترکہ میں جتنا ان کا حصہ بنتا تھا وہ دے  دیں چنانچہ مذکورہ صورت  میں اگر یہی ورثاء ہوں جو سوال میں مذکور ہیں  تو ترکہ کے کل 7 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 2 حصے (28.57فیصد)آپ کو، 2 حصے (28.57فیصد) بھائی کو اور بقیہ تین حصوں میں سے ہر بہن کو 1حصہ(   14.28 فیصد)     ملے گا لہٰذا مذکورہ صورت میں  بہنوں کے 3 حصوں (42.84 فیصد)  میں سے  ڈیڑھ حصہ(21.42 فیصد) آپ کے حصہ میں آتا ہے باقی ڈیڑھ حصہ (21.42 فیصد)آپ کے بھائی کے حصہ میں آتا ہے وہ ڈیڑھ حصہ(21.42 فیصد) آپ اپنی بہنوں میں سے ہر زندہ    بہن کو (7.14 فیصد)  اور (7.14 فیصد) اور  مرحومہ بہن کے ورثاء کو  اس طرح دیدیں کہ ہر لڑکے کو دو، دو حصے ملیں اور ہر لڑکی کو ایک، ایک حصہ ملے  تو آپ کے حصہ کی حد تک آپ کے والد صاحب گناہ سے برئ الذمہ ہوجائیں گے۔

نیز آپ زمین  کے بجائے موجودہ ریٹ کے لحاظ سے پیسے بھی دے سکتے ہیں اور زمین کا ریٹ علاقے کے زمین کے ریٹ کی سمجھ بوجھ والوں سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

ہندیہ (7/355) میں ہے:

‌رجل ‌وهب ‌في ‌صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع

ہندیہ (7/355) میں ہے:

‌ولو ‌وهب ‌رجل ‌شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره

بدائع الصنائع (6/264) میں ہے:

فللمالك ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه أي تصرف شاء

ہندیہ (4/269) میں ہے:

‌إذا ‌كانت ‌التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا

آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/464) میں ہے:

سوال: ہمارے والد صاحب وفات پا گئے ہیں ہم پانچ بھائی ایک بہن اور ایک والدہ ہے  لیکن ہمارے والد نے انتقال سے پہلے اپنی جائیداد ،مکان ہمارے ایک بھائی نوشاد کے نام کر گئے تھے بھائی کا کہنا ہے کہ والدین نے مجھے یہ مکان گفٹ کیا ہے لہذا اس پر کسی کو حق نہیں اسلامی نقطہ نظر سے بتائیں کہ کیا اس  مکان میں ہمارا کوئی حق ہے یا نہیں؟

جواب: آپ کے والد نے جائیداد بیٹے کے نام کر کے اس کو قبضہ بھی دلایا خود قطعا بے دخل ہو کر بیٹھ گئے تو یہ جائیداد صرف اسی بیٹے کی ہے باقی وارثوں  کا اس میں کوئی حق نہیں رہا لیکن دوسرے وارثوں  کو محروم کر کے آپ کے والد ظلم و جور کے مرتکب ہوئے  جس کی سزا قبر میں بھگت رہے ہوں گے اور اگر وہ لائق  بیٹا اپنے والد کو اس عذاب سے بچانا چاہے تو اسے چاہیے کہ اس جائیداد میں سے دستبردار ہو جائے اور شرعی وارثوں کو ان کے حصے دے دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved