- فتوی نمبر: 34-276
- تاریخ: 07 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مفتی صاحب یہ مسئلہ دریافت طلب ہے کہ زید کا انتقال ہوگیا ہے۔ جس کے ورثاء میں والدہ، بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ زید کی وراثت میں ایک مکان ہے جس کی مالیت تقریبا دو کروڑ ہےاور بھائیوں کے پاس ایک کروڑ 23 لاکھ نقدی ہے۔ اب ان ورثاء میں مذکورہ وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ مکمل تفصیل سے آگاہ کریں۔
تنقیح : بھائیوں کے پاس جو نقدی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ زید سمیت تین بھائیوں کا مشترکہ کاروبار تھا جو کہ اب ختم کردیا گیا ہے یہ رقم زید کے کاروباری حصے کی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید کے ترکہ کے کل 144 حصے کیے جائیں گے جن میں سے والدہ کو 24 حصے ،بیوی کو 18 حصے ،دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو 34 حصے فی کس اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 17 حصے فی کس ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×6=144
| والدہ | بیوی | 2 بیٹے | 2 بیٹیاں |
| 6/1 | 8/1 | عصبہ | |
| 4×6 | 3×6 | 17×6 | |
| 24 | 18 | 102 | |
| 24 | 18 | 34+34 | 17+17 |
مذکورہ تقسیم کے مطابق زید کےمکان کی مالیت دو کروڑ اور ایک کروڑ 23 لاکھ نقدی (جو کہ کل تین کروڑ 23 لاکھ بنتے ہیں ) میں سے والدہ کو 53,83333 (ترپن لاکھ تراسی ہزار تین سو تینتیس روپے ) ،بیوی کو 4037500( چالیس لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو روپے) ، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو 7626388 (چھہتر لاکھ چھبیس ہزار تین سو اٹھاسی روپے ) فی کس اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 3813194 (اڑتیس لاکھ تیرہ ہزار ایک سو چورانوےروپے ) فی کس ملیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved