• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والدہ ، بیوی ، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں تقسیم وراثت

استفتاء

مفتی صاحب یہ مسئلہ دریافت طلب ہے کہ زید  کا انتقال ہوگیا ہے۔ جس کے ورثاء میں والدہ، بیوی، دو بیٹے اور دو  بیٹیاں ہیں۔ زید  کی وراثت میں ایک مکان ہے جس کی مالیت تقریبا دو کروڑ ہےاور بھائیوں کے پاس ایک کروڑ 23 لاکھ نقدی ہے۔ اب ان ورثاء میں مذکورہ وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ مکمل تفصیل سے آگاہ کریں۔

تنقیح : بھائیوں کے پاس جو نقدی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ  زید سمیت تین بھائیوں کا مشترکہ کاروبار تھا جو کہ اب ختم کردیا گیا ہے  یہ رقم زید   کے کاروباری حصے کی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید  کے ترکہ کے کل 144 حصے کیے جائیں گے جن میں سے والدہ کو 24 حصے  ،بیوی کو 18 حصے  ،دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو 34  حصے فی کس اور دونوں  بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 17 حصے فی کس ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

24×6=144

والدہبیوی2 بیٹے2 بیٹیاں
6/18/1عصبہ
4×63×617×6
2418102
241834+3417+17

مذکورہ تقسیم کے مطابق  زید  کےمکان کی مالیت  دو کروڑ  اور ایک کروڑ 23 لاکھ نقدی (جو کہ کل تین کروڑ 23 لاکھ بنتے ہیں ) میں سے والدہ کو  53,83333 (ترپن لاکھ تراسی ہزار تین سو تینتیس روپے ) ،بیوی کو 4037500( چالیس لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو روپے) ، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو  7626388 (چھہتر لاکھ  چھبیس ہزار  تین سو اٹھاسی روپے ) فی کس  اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو  3813194 (اڑتیس لاکھ تیرہ ہزار ایک سو چورانوےروپے ) فی کس ملیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved