• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

والدہ کا نابالغ بچے کو ہبہ کرنا اور ماموں کا بچے کی طرف سے اس پر قبضہ کرنا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کی شادی ہوئی کچھ عرصہ بعد اس کا شوہر فوت ہو گیا اور اس شوہر سے ایک بچہ تھا جو تاحال موجود ہے لیکن شوہر کے فوت ہو جانے کے بعد اس عورت کو جو مال ملا تھا ماں باپ کی طرف سے وہ سارا اپنے بیٹے کے نام کر دیا اور قبضہ وغیرہ سب کچھ دے دیا تھا۔ پھر اس عورت نے دوسرے شوہر سے نکاح بھی کر لیا اور اس دوسرے شوہر سے چھ بیٹے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ جو مال اس عورت نے پہلے بیٹے کے نام کر دیا تھا تو کیا اس مال میں اس دوسرے شوہر سے جو چھ بیٹے ہیں ان کا بھی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

تنبیہ: اس بچے کی عمر اب تقریباً 26 سال ہے۔ اور بالکل بچپن کی حالت میں وہ عورت چھوڑ کر چلی گئی تھی تقریباً 2-3 سال  کی عمر میں۔ برائے کرم مسئلہ کا حل بتا کر مشکور فرمائیں۔

تنقیحات:

1۔ والدہ زندہ ہے یا فوت ہو گئی؟

جواب: فوت ہو گئی۔

2۔ جو مال، ماں نے بیٹے کو دیا ہے وہ مال، ماں کو کہاں سے ملا ہے؟

جواب: اس خاتون کو اپنی والدہ کی طرف سے ملا۔

3۔  اب مطالبہ کون کرتا ہے؟

جواب: جس کو ملا ہے وہی سائل ہے۔

4۔ قبضہ کب دیا تھا اور کیسے دیا تھا؟

5۔  اس کی طرف سے قبضہ کس نے کیا؟

جواب: یہ بچہ ماموں کے پرورش میں تھا۔ والدہ نے بچے کے ماموں سے کہا کہ یہ مال اس بچے کا ہے اس کو دے دینا، وہ مال ماموں کے قبضے میں تھا، جب بچہ بڑا ہوا ماموں نے وہ مال حوالہ کیا۔ اب بھی وہ مال اس بچے کے پاس ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ مال اس بیٹے کا ہے جسے ماں نے ہبہ کر دیا تھا۔ اور بیٹے کے ماموں نے بچے کی جانب سے اس پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔ خاتون کے دوسرے بچوں کا اس میں حق نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی (8/489) میں ہے:

(وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق ولو مكاتباً و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول).

فتاویٰ عالمگیری  (6/236) میں ہے:

وهبة الأب من ابنه الصغير بلفظ واحد ويكون الأب قابضاً بكونه في يده، أو في يد مودعه أو مستعيره.

کفایت المفتی (8/284) میں ہے:

’’سوال: *** ایک زوجہ ایک لڑکی چار سوتیلی بہنوں کو چھوڑ کر انتقال کر گیا، *** اپنے حین حیات میں  اپنی کمسن نابالغہ لڑکی کے نام ملک خرید کر ہبہ کر دے کر اپنے قبضے میں رکھا تھا۔ مذکورہ املاک کی آمدنی اپنے حسب منشا خرچ کر رہا تھا اور اپنی لڑکی کے نام چند کمپنیوں میں برائے منافع سرمایہ جمع کر رکھا تھا وقت ضرورت اصل سرمایہ میں سے بھی لے کر صرف کر رہا تھا۔ الحاصل آمد و خرچ لڑکی کے نام پر ہی رکھا تھا اب سوال یہ ہے کہ املاک اور نقد لڑکی کا حق ہے یا اس میں وارثوں کا بھی حق ہے۔ *** ملک اور نقد اپنے حین حیات ہی میں لڑکی کو ہبہ کر دینے کے باوجود پہلے کچھ روپیہ لڑکی کی شادی کی غرض سے ہبہ کر دے کر اپنے نام میں خرچ لکھ کر لڑکی کے  نام مذکور روپیہ حساب میں جمع رکھا ہے۔ اس صورت میں مذکور رقم کو *** کے خاص املاک میں سے لڑکی کو ادا کرنا چاہیے یا نہیں؟ *** اپنی بیماری کے وقت بکر کے پاس بطور امانت پندرہ سو روپے دے رکھا تھا۔ بکر کے اصرار پر *** نے کہا کہ اس رقم کو لڑکی کے نام جمع رکھو پھر چند دنوں کے بعد بکر سے کہا کہ ان روپیوں کو لڑکی کی شادی میں خرچ کرو۔ اس صورت میں مذکور رقم کا حق کس کا ہے؟ *** اپنے ہمشیر زاد کے نام ایک ملک خرید کر کے ہبہ کر دے کر مذکور ملک کی آمد و خرچ اپنے قبضہ ہی میں رکھا تھا مذکور ملک کی آمدنی سے خرچ جو زیادہ ہوا ہے اس کے نام پر خرچ لکھا ہوا ہے۔ اس صورت میں خرچ افزود *** کے ہی ذمہ ہے یا ہمشیرہ زادہ ادا کرتا یا نہیں؟ ***  پابند صوم وصلوٰۃ نہیں تھا، کبھی نہیں اور حج بھی ادا نہ کیا اور نہ حج بدل کے لیے وصیت کیا، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

الجواب: *** کا ترکہ اس کے وارثوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ ترکے کے بتیس سہام کر کے اس میں سے چار سہام زوجہ کو اور سولہ سہام لڑکی کو اور تین تین سہام چاروں بہنوں کو دیے جائیں گے (جبکہ بہنیں علاتی یعنی باپ شریک ہوں) نابالغہ لڑکی کو جو جائیداد اور املاک نقد روپیہ *** نے ہبہ کر دیا تھا وہ نابالغہ کی ملک ہو گیا اس میں دوسرے وارثوں کا حق نہیں ہے ہمشیر زادے کو جو جائیداد ہبہ کی ہے اگر ہبہ کے وقت وہ ہمشیر زادہ نابالغ ہو اور *** کی عیال داری میں ہو تو وہ ہبہ بھی صحیح ہو گیا اور جائیداد ہمشیر زاد کی ملک ہو گئی لیکن اگر ہبہ کے وقت ہمشیر زاد بالغ ہو یا نابالغ ہو مگر اپنے باپ دادا چچا وغیرہ میں سے کسی کی عیالداری میں ہو تو اس صورت میں ہبہ کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ بصورت بلوغ خود ہمشیر زادے کو یا بصورت دیگر اس کے سرپرست ولی کو جائیداد موہوبہ کا قبضہ دیدیا گیا ہو۔ اگر ان صورتوں میں قبضہ نہ دیا گیا تو ہبہ صحیح نہیں ہوا۔۔۔۔ الخ‘‘

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved