• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والد، ماں ، بہن اور بھائی کی وفات کے بعد وراثت کی تقسیم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی وفات ہوئی ،  ان کے ورثاء میں ایک بیٹا( خالد )  اور ایک بیٹی (فاطمہ )  اور ایک بیٹی (زینب )  اور ایک بیٹی (عائشہ) ہے اور زید کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے تھے پھر زید کی بیوی کی وفات ہوئی ، اس کے  ورثاء میں ایک بیٹا،  تین بیٹیاں اور صرف ماں زندہ تھے پھر زید کی بیٹی (زینب ) کی وفات ہوئی اس کے  ورثاء میں ایک بھائی ، دو بہنیں اور ایک شوہر  تھے  پھر زید کا بیٹا (خالد ) فوت ہوا ورثاء  میں دو بہنیں،  ایک بیوی،  ایک بیٹا اور ایک بیٹی  ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید کی کل جائیداد کے 7680 حصے کیے جائیں گے جن میں سے زید کی دو بیٹیوں (فاطمہ اور عائشہ ) میں سے فی بیٹی   کو 1692 حصے(22.03%)  دیے جائیں گے اور زید کی فوت شدہ بیٹی (زینب ) کے  شوہر کو 752 حصے(9.79%)  دیے جائیں گے اور خالد کی بیوی کو 423 حصے(5.50%)  دیے جائیں گے اور خالد کے بیٹے کو 1974 حصے( 25.70%) دیے جائیں گے اور خالد کی بیٹی کو 987 حصے (12.85%) دیے جائیں گے اور زید کی بیوی کی ماں کو 160 حصے (2.08%)  دیے جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved