- فتوی نمبر: 35-71
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی وفات ہوئی ، ان کے ورثاء میں ایک بیٹا( خالد ) اور ایک بیٹی (فاطمہ ) اور ایک بیٹی (زینب ) اور ایک بیٹی (عائشہ) ہے اور زید کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے تھے پھر زید کی بیوی کی وفات ہوئی ، اس کے ورثاء میں ایک بیٹا، تین بیٹیاں اور صرف ماں زندہ تھے پھر زید کی بیٹی (زینب ) کی وفات ہوئی اس کے ورثاء میں ایک بھائی ، دو بہنیں اور ایک شوہر تھے پھر زید کا بیٹا (خالد ) فوت ہوا ورثاء میں دو بہنیں، ایک بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید کی کل جائیداد کے 7680 حصے کیے جائیں گے جن میں سے زید کی دو بیٹیوں (فاطمہ اور عائشہ ) میں سے فی بیٹی کو 1692 حصے(22.03%) دیے جائیں گے اور زید کی فوت شدہ بیٹی (زینب ) کے شوہر کو 752 حصے(9.79%) دیے جائیں گے اور خالد کی بیوی کو 423 حصے(5.50%) دیے جائیں گے اور خالد کے بیٹے کو 1974 حصے( 25.70%) دیے جائیں گے اور خالد کی بیٹی کو 987 حصے (12.85%) دیے جائیں گے اور زید کی بیوی کی ماں کو 160 حصے (2.08%) دیے جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved