- فتوی نمبر: 34-247
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔وقف غفران کیا ہوتا ہے؟
2۔ اس پر وقف کیسے کرنا ہے؟
3۔ اس کی اہمیت کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔وقف غفران کا مطلب بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ وقف کرنا اور نہ کرنا دونوں مغفور(معاف) ہیں یعنی وقف کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں اور نہ کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں جبکہ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ وقف کرنے سے بخشش کی امید ہے تاہم بخشش کی بات کسی معتبر دلیل سے ثابت نہیں اور بعض نے یہ لکھا ہے کہ اس جگہ وقف کرنے سے معنی کی وضاحت اور سننے والے پر بشاشت پیدا ہوتی ہے ۔
2۔ اس پر وقف کرنے کا طریقہ عام وقف کی طرح ہے یعنی اس جگہ پر وقف کرنے کے لیے سانس بھی توڑا جائےاور آواز بھی روکی جائے ۔
3۔اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔
۱۔جامع الوقف ، لمولانا محب الدین، استاذ قراءت مدرسہ تجوید الفرقان، لکھنو، مطبوعہ دارالقراء ماڈل ٹاؤن لاہور (ص:25) میں ہے:
وقف غفران: یہ بھی قرآن مجید کے حاشیہ پر مرسوم ہے ایسی جگہ وقف کرنے سے معنی کی وضاحت اور سننے والے پر بھی بشاشت پیدا ہوتی ہے اس لیے اس کو وقف غفران کہتے ہیں یہاں وصل سے وقف بہتر ہے۔
۲۔فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: قرآن مجید کے حاشیہ پر جا بجا “وقف غفران “لکھا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب: یہ مطلب ہے کہ اس مقام پر وقف کرنا بھی درست ہے اور نہ کرنا بھی درست ہے دونوں میں کسی بات پر مواخذہ نہیں بلکہ دونوں فعل مغفور ہیں۔
۳۔عمدۃ الفقہ میں ہے:
وقف غفران اس جگہ وقف کرنے سے امید بخشش ہے لیکن احادیث میں اس کی کوئی سند نہیں ہے ان دونوں وقفوں کا نام حاشیہ پر لکھا ہوتا ہے۔
۴۔ ملفوظات حکیم الامت (14/208) میں ہے:
وقف غفران اوروقف النبی کے متعلق قراء کہتے ہیں کہ وقف کرنے سے مغفرت ہوتی ہے اور وقف النبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے مگر میری نظر سے اس کی کوئی سند نہیں گزری۔
جامع الوقف ، لمولانا محب الدین، استاذ قراءت مدرسہ تجوید الفرقان، لکھنو، مطبوعہ دارالقراء ماڈل ٹاؤن لاہور (ص:11) میں ہے:
وقف: آخری کلمہ پر سانس اور آواز توڑ کر ٹھہرنا اور سانس لینا اس کو وقف کہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved