• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثین میں گھریلو سامان کی تقسیم

استفتاء

برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں کہ والد صاحب کے ترکہ میں روز مرہ کے استعمال کی گھریلو اشیاء / سامان مثلاً ڈبل بیڈ، صوفہ سیٹ، برتن، ڈائیننگ ٹیبل مع کرسیاں، کتب، سٹیشنری وغیرہ کی تقسیم کیسے کی جائے؟ وارثین میں چار بھائی اور چار بہنیں ہیں، جن میں ایک بھائی اور دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔

وضاحت مطلوب ہے: آپ کی والدہ حیات ہیں؟ اگر فوت ہوئی ہیں تو کیا آپ کے والد صاحب سے پہلے فوت ہوئی ہیں یا بعد میں؟

جواب وضاحت: پہلے فوت ہوئی ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ  صورت میں ترکہ کے کل 12 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 2۔2 حصے (16.66 فیصد ) مرحوم کے ہر بیٹے کو اور 1۔1 حصہ (8.33 فیصد ) مرحوم کی ہر بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

12

4  بیٹے4  بیٹیاں
عصبہ
2+2+2+21+1+1+1

نوٹ: ترکہ میں موجود گھریلو اشیاء کو تقسیم کرنے کے مختلف طریقے  ہیں :

1۔ایک طریقہ یہ ہے کہ ان اشیاء کو فروخت کر کے رقم ورثاء میں ان کے حصوں کے اعتبار سے تقسیم کر دی جائے۔

2۔دوسرا  طریقہ یہ ہے کہ تمام اشیاء کی الگ الگ  قیمت لگا کر ایک وارث کو ایک چیز دے دی جائے اور دوسرے کو دوسری چیز دیدی جائے  اس طرح تمام اشیاء تقسیم کرنے کے بعد جس وارث کے حصے میں  اس کے حصے سے زیادہ رقم والی چیز آئی ہو وہ اپنے حصے سے زائد رقم اس وارث کو دے دے جس کے پاس اس کے حصے سے کم رقم کی چیز آئی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved