- فتوی نمبر: 28-98
- تاریخ: 27 اگست 2022
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان
استفتاء
میت کی ایک بیوی، ایک بیٹی، ماں باپ، دو بھائی اور ایک بہن ہے۔ ان میں ترکہ کی تقسیم کسطرح ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں میت کے کل ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے 3 حصے (12.5 فیصد) بیوی کو، 12 حصے(50فیصد) بیٹی کو، 5حصے (20.883 فیصد) والد کواور 4حصے (16.666 فیصد) والدہ کو ملیں گے۔
نوٹ: مذکورہ صورت میں میت کے بہن بھائیوں کو وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
تقسیم کی صورت درج ذیل ہے:
24
| بیوی | بیٹی | والد | والدہ | 2بھائی | 1بہن |
| ثمن | نصف | سدس مع العصبہ | سدس | محروم | |
| 8/1 | 2/1 | 6/1 | 6/1 | ||
| 3 | 12 | 1+4 | 4 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved