- فتوی نمبر: 4-100
- تاریخ: 14 جولائی 2011
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
**** وہم کا مریض ہے، دوران تعلیم طلاق وغیرہ کے مسائل پڑھے تو وہم اور شک و شبہ نے یہ سمت اختیار کر لی کہ شادی شدہ نہ ہونے کے باوجود طلاق معلق پر مشتمل جملے زبان پر آنے لگے، **** جبراً زبان کو روکتا اور منہ بند رکھا کہ کہیں الفاظ طلاق زبان سے ادا نہ ہو جائیں، اس کیفیت کے دوران سوچ اور غور و فکر کرنے کی وجہ سے کہ آیا طلاق کے الفاظ زبان سے ادا ہوئے یا نہیں، وہم م**** بڑھ جاتا حتی کہ دوران نیند بھی یہ خطرہ موجود تھا کہ کہیں الفاظ طلاق زبان سے ادا نہ ہو جائیں۔ **** مطمئن رہا کہ ابھی نکاح نہیں ہوا، لہذا طلاق معلق کے الفاظ اگر ادا بھی ہوئے ہیں خواہ ایک سے زائد مرتبہ ادائیگی ہوئی ہے تو بوقت نکاح حیلہ و تدبیر کے ذریعے تلافی ہو جائیگی۔ اب **** کا نکاح قریب ہے اور **** کی ساری صورت حال آپ کےسامنے ہے۔ مندرجہ بالصورت حال کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات آپ جناب سے مطلوب ہیں:
۱۔ کیا **** بغیر حیلہ و تدبیر اختیار کیے ( وہ تدابیر جو کلما وغیرہ کے نتائج سے بچنے کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں ) اپنا نکاح کرواسکتا ہے؟
۲۔ چونکہ **** غیر شادی شدہ ہے لہذا وہ حنفی حیلہ کو اختیار کیے بغیر اس بابت حضرات شوافع کے مسلک کو اختیار کر کے نکاح کرواسکتا ہے؟ نکاح کی صورت میں اس کا نکاح جائز متصور ہوگا؟
۳۔ نکاح کے بعد بھی ****کا یہ مرض وہم اور شک و شبہ بر قرار رہے۔
۴۔ تو اس صورت میں اس وہم اور شک شبہ سے احتراز کی کونسی صورت اختیار کی جاسکتی ہے؟
۵۔ نکاح کے بعد اس وہم اور شک شبہ کی وجہ سے **** کی زبان سے الفاظ طلاق اد ہوجائیں تو اس صورت میں **** کی طلاق کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ شخص وہم کا مریض ہے اور طلاق کے بارے میں اس شخص کے وہم کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ یہ شخص بغیر کسی حیلہ کے نکاح کر سکتا ہے۔ آئندہ طلاق کے بارے میں اس کو کچھ بھی سوال کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اور یہ کسی ماہر نفسیات سے سائیکیٹرسٹ سے پورا علاج کرائے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved