- فتوی نمبر: 32-263
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > بدعات و رسومات
استفتاء
میں دینی مجالس کے متعلق پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیایہ صحیح ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک وقت میں ایک ساتھ استغفارکی تسبیح کریں؟
ایک واٹس ایپ گروپ ہے جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے کچھ لوگ شامل ہیں اور ہفتے میں ایک دن ایک مقررہ وقت پر استغفار کرتے ہیں اوراس کی تعداد بتاتے ہیں تا کہ لوگ ایک دوسرے سے موٹیویٹ ہوں اور زیادہ سے زیادہ استغفار کریں ۔
1۔کیا یہ عمل اس طرح صحیح ہے ؟
2۔اگر نہیں تو بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے ؟کیونکہ میں نے اس جمعہ کے خطبے میں سناہے کہ ایک بار کچھ لوگ نماز کے بعد مسجدمیں بیٹھ کے سبحان اللہ ، الحمد للہ کی تسبیح کر رہے تھے لیکن عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ اس عمل کو پسند نہیں کیا گیا اور دین میں ایجاد سمجھا گیا۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ مندرجہ بالا عمل بھی اس زمرہ میں تو نہیں شمار ھو گا ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ طریقہ درست نہیں کیونکہ یہ مستحب عمل کیلئے اجتماعی ترتیب کی صورت ہے کہ ایک ہی وقت میں اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔
2۔بہتر طریقہ یہ ہے کسی خاص دن اور وقت کا التزام کیے بغیر ہر ایک شخص انفرادی طور پر جب چاہے جتنا چاہے استغفار کر لیا کرے ۔
سنن دارمی(رقم:210) میں ہے:
أخبرنا الحكم بن المبارك، أنبأنا عمرو بن يحيى، قال: سمعت أبي، يحدث، عن أبيه قال: كنا نجلس على باب عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، قبل صلاة الغداة، فإذا خرج، مشينا معه إلى المسجد، فجاءنا أبو موسى الأشعري رضي الله عنه فقال: أخرج إليكم أبو عبد الرحمن قلنا: لا، بعد. فجلس معنا حتى خرج، فلما خرج، قمنا إليه جميعا، فقال له أبو موسى: يا أبا عبد الرحمن، إني رأيت في المسجد آنفا أمرا أنكرته ولم أر – والحمد لله – إلا خيرا. قال: فما هو؟ فقال: إن عشت فستراه. قال: رأيت في المسجد قوما حلقا جلوسا ينتظرون الصلاة في كل حلقة رجل، وفي أيديهم حصا، فيقول: كبروا مائة، فيكبرون مائة، فيقول: هللوا مائة، فيهللون مائة، ويقول: سبحوا مائة، فيسبحون مائة، قال: فماذا قلت لهم؟ قال: ما قلت لهم شيئا انتظار رأيك أو انتظار أمرك. قال: «أفلا أمرتهم أن يعدوا سيئاتهم، وضمنت لهم أن لا يضيع من حسناتهم»، ثم مضى ومضينا معه حتى أتى حلقة من تلك الحلق، فوقف عليهم، فقال: «ما هذا الذي أراكم تصنعون؟» قالوا: يا أبا عبد الرحمن حصا نعد به التكبير والتهليل والتسبيح. قال: «فعدوا سيئاتكم، فأنا ضامن أن لا يضيع من حسناتكم شيء ويحكم يا أمة محمد، ما أسرع هلكتكم هؤلاء صحابة نبيكم صلى الله عليه وسلم متوافرون، وهذه ثيابه لم تبل، وآنيته لم تكسر، والذي نفسي بيده، إنكم لعلى ملة هي أهدى من ملة محمد صلى الله عليه وسلم أو مفتتحو باب ضلالة». قالوا: والله يا أبا عبد الرحمن، ما أردنا إلا الخير. قال: «وكم من مريد للخير لن يصيبه، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا أن» قوما يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم “، وايم الله ما أدري لعل أكثرهم منكم، ثم تولى عنهم. فقال عمرو بن سلمة: رأينا عامة أولئك الحلق يطاعنونا يوم النهروان مع الخوارج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved