• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

وراثت کی ایک صورت

استفتاء

ایک بزرگ فوت ہو گئے ان کی ملکیت میں 50,00000 رقم تھی، ان کی دو بیویاں تھیں، ایک بیوی کا انتقال ان کی زندگی میں ہوگیا تھا، دوسری بیوی حیات ہے۔ ان کے کل 5 بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں  جن میں سے ایک بیٹا   والد کی زندگی میں فوت ہوگیا، وہ بیٹا  شادی شدہ تھا، اس  بیٹے کے دو بچے ہیں اور بیوی بھی حیات ہے، اس بیٹے کی بیوی نے دوسرا نکاح کرلیا ہے اور وہ اپنے دوسرے شوہر کے گھر رہائش پذیر ہے اور بچے بھی اسی کے پاس ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ 50,00000 روپے بزرگ کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوں گے؟

وضاحت مطلوب ہے:بزرگ کے والدین حیات ہیں ؟

جواب وضاحت: نہیں بزرگ سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کل جائیداد کے 80 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی موجودہ  بیوہ کو10 حصے (یعنی 12.5 فیصد )، مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر بیٹے  کو 14 حصے( یعنی 17.5 فیصد فی کس) اور مرحوم کی دو  بیٹیوں میں سے ہر بیٹی  کو 7 حصے( یعنی 8.75 فیصد فی کس) دیے جائیں گے۔

اس حساب سے مرحوم کی موجودہ بیوہ کو6,25,000روپے، مرحوم کے چار بیٹوں میں سے ہربیٹے کو 8,75,000 روپے اور مرحوم کی دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 4,37,500روپے ملیں گے۔

وہ ورثا جن کا بزرگ کی زندگی میں انتقال ہو گیا تھا چاہے وہ بیوی ہو یا اولاد یا پوتے پوتیاں وہ شرعی طور پر  بزرگ مرحوم کی جائیداد میں سے میراث کے حقدار نہیں ہوں گے۔

8×10=80                                             50,00000

بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
8/1       ***
1×10       7×10
10          70
14 14 14 14 7 7

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved