• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم

استفتاء

1992 میں میرے دادا کی وفات ہوئی ان کے چار بچے (دو بیٹیاں اور دو بیٹے)  تھے ان میں سے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی وفات ہو چکی ہے، معاشرتی دباؤ یا جاہلیت کی وجہ سے اس وقت جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کسی بیٹی نے نہیں کیا، وہ جائیداد دونوں بھائیوں کے زیر استعمال رہی۔  اب 2025 میں جو بیٹی حیات ہے اس نے اپنے والد کی جائیداد میں سے حصے کا مطالبہ کیا ہے اب ایک بھائی جو حیات ہے اور میرے بھائی جو ان کے بھتیجے ہیں وہ کس طرح تقسیم کے پابند ہیں؟ رہنمائی فرما دیں ۔

تنقیح: دادا دادی کے وفات کے وقت ان کے والدین زندہ نہ تھے، دادی کی وفات 2004 میں ہوئی۔ بیٹی کی وفات 2015 میں ہوئی ورثاء میں 2  بیٹے ، 3 بیٹیاں ہیں اس کے  شوہر کی وفات 1997 میں ہوئی تھی۔  بیٹے کی وفات 2016 میں ہوئی ورثاء میں  دو بیٹے ،دو بیٹیاں اور بیوی ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکور ہ صورت میں  جن کے پاس دادا کی وراثت ہے ان کو چاہیے کہ اس وراثت کو شرعی طریقے کے مطابق  تمام ورثاء میں تقسیم کردیں ۔ دادا کی وراثت کی موجودہ ورثاء میں تقسیم یوں ہوگی کہ مرحوم ( دادا )کے کل ترکہ کو 1008حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم (دادا )کے بیٹے  کو   336 حصے (33.33فیصد)،  مرحوم (دادا )کی بیٹی کو 168 حصے (16.66فیصد )اور مرحومہ (بیٹی )کی تین بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو  24، 24 حصے(2.38فیصد فی کس) ، مرحومہ (بیٹی )کے دو بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 48، 48 حصے (4.76فیصد فی کس) اور مرحوم (بیٹا)کی بیوی کو 42 حصے (4.16فیصد) مرحوم  (بیٹا)کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو  98،98 حصے (9.72فیصد فی کس)، مرحوم (بیٹا) کی دوبیٹیوں میں سے ہر ایک کو  49،49 حصے (4.86 فیصد فی کس) ملیں گے۔

اس تفصیل کی روشنی میں جس وارث کے پاس اپنے حصے سے زیادہ ہے وہ دوسرے وارث کو اس کے حصے کے حساب سے دیدے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved