- فتوی نمبر: 34-288
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید صاحب کا انتقال1984 میں ہوا ، زید صاحب نے ترکہ میں ایک گھر چھوڑا جس کی مالیت 2 کروڑ 15 لاکھ ہے اور ایک دکان چھوڑی جس کی مالیت 30 لاکھ ہے۔ اب 40،45 سال بعد ان کی وراثت تقسیم ہورہی ہے تو اس کا شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟
زید صاحب کےانتقال کے وقت ان کے ورثاء میں بیوی، والدہ ، 3بیٹے اور 5بیٹیاں زندہ تھیں ۔پھر 2002میں زید صاحب کی والدہ کا انتقال ہوا ۔پھر 2019 میں زید صاحب کی بیٹی (فاطمہ ) کا انتقال ہوا جن کے ورثاء میں والدہ،شوہر، 3 بیٹےاور ایک بیٹی ہے۔پھر 2023 میں زید صاحب کے بیٹے (خالد) کا انتقال ہوا جن کے ورثا میں والدہ، بیوی، 3 بیٹیاں،2 بھائی اور 4 بہنیں ہیں ۔پھر 2024 میں زید صاحب کی بیوی کے انتقال ہوا جن کے ورثاء میں 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔
نوٹ:زید صاحب کے والد کا انتقال زید صاحب سے پہلے ہوچکا تھا اور زید صاحب ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید صاحب کے ترکہ کے کل 25344 حصے کیے جائیں گے جن میں سے زید صاحب کے فی بیٹے کو 5118 حصے (20.19 فیصد)، زید صاحب کی فی بیٹی کو 2559 حصے (10.09فیصد)، فاطمہ کے شوہر کو 504 حصے (1.98فیصد)، فاطمہ کے بیٹوں میں سے فی بیٹے کو 336 حصے(1.32 فیصد) ، فاطمہ کی بیٹی کو 168 حصے (0.66 فیصد) ، خالد کی بیوی کو 504 حصے (1.98 فیصد) اور خالد کی تین بیٹیوں میں سے فی بیٹی کو 896 حصے(3.53 فیصد) دیے جائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved