• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم

استفتاء

زید صاحب کا انتقال1984 میں ہوا ، زید  صاحب  نے ترکہ  میں ایک گھر  چھوڑا جس کی مالیت 2 کروڑ 15 لاکھ ہے اور ایک دکان چھوڑی جس کی مالیت  30 لاکھ ہے۔ اب 40،45 سال بعد  ان کی وراثت تقسیم ہورہی ہے تو اس کا شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟

زید   صاحب کےانتقال کے وقت ان کے  ورثاء میں بیوی، والدہ ، 3بیٹے اور 5بیٹیاں  زندہ تھیں ۔پھر 2002میں زید  صاحب  کی والدہ کا انتقال ہوا ۔پھر 2019 میں  زید  صاحب  کی بیٹی (فاطمہ )  کا انتقال ہوا جن کے ورثاء میں والدہ،شوہر، 3 بیٹےاور  ایک بیٹی ہے۔پھر 2023 میں زید  صاحب  کے بیٹے (خالد)  کا  انتقال ہوا جن کے ورثا  میں والدہ، بیوی، 3 بیٹیاں،2 بھائی اور 4 بہنیں ہیں ۔پھر 2024 میں  زید صاحب  کی بیوی کے انتقال ہوا جن کے ورثاء میں  2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔

نوٹ:زید   صاحب کے والد کا انتقال  زید صاحب  سے پہلے ہوچکا تھا اور  زید  صاحب ان کے  اکلوتے بیٹے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  زید  صاحب کے ترکہ کے کل 25344 حصے  کیے جائیں گے جن میں سے  زید صاحب  کے فی بیٹے کو  5118  حصے (20.19 فیصد)،  زید  صاحب  کی فی بیٹی  کو 2559 حصے (10.09فیصد)، فاطمہ کے شوہر کو 504  حصے (1.98فیصد)،  فاطمہ کے  بیٹوں میں سے   فی بیٹے کو 336 حصے(1.32 فیصد) ، فاطمہ کی بیٹی کو 168 حصے (0.66 فیصد) ، خالد  کی بیوی کو 504 حصے (1.98 فیصد) اور  خالد کی تین بیٹیوں میں سے فی بیٹی کو  896 حصے(3.53 فیصد)   دیے جائیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved