• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

زید  کا انتقال  ہوا جس کے ورثاء میں والد، 2،بھائی، 5 بہنیں تھیں۔ زید کی والدہ کا انتقال پہلے ہی ہوگیا تھا اور زید  کنوارہ تھا پھر زید  کا بھائی فوت ہوا جس کے ورثاء میں بیوی، 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں پھر زید  کا والد  خالد   فوت ہوا جس کے ورثاء میں 1 بیٹا اور 5 بیٹیاں ہیں۔ زید  نے ترکہ میں 13 کنال زمین چھوڑی ہے، یہ زمین  اس کے ورثاء میں  کیسے تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید  کی وفات کے بعد 13 کنال زمین ان کے والد غلام سرور کی ہوگئی  کیونکہ والد کے ہوتے ہوئے بھائی بہن وارث نہیں بن سکتے  لہٰذا   خالد  کے  انتقال کے بعد اس  13 کنال  زمین کے 7 حصے  کیے جائیں گے جن میں سے دو حصے (3.7142 کنال زمین ) غلام سرور کے بیٹے کو ، اور ایک حصہ (1.8571کنال زمین فی کس) غلام سرور کی ہر بیٹی  کو ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved