- فتوی نمبر: 32-78
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہمارا ایک مکان ہے جو کہ مشترکہ وراثت ہے جس کی مالیت 27 لاکھ بنتی ہے .ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ہمیں پیسوں کی تقسیم کا عمل بتا دیں کہ کس کے حصے میں کتنی رقم آئے گی؟
وضاحت مطلوب ہے: (1) یہ مکان کس کی ملکیت تھا؟ (2) مرحوم اگر والد ہے تو اس کی بیوی اور اگر والدہ ہے تو اس کا شوہر زندہ ہے؟ (3) مرحوم کے والدین حیات ہیں یا فوت ہوچکے ہیں؟
جواب وضاحت: (1) والد صاحب جن کے نام تھا فوت ہوچکے ہیں۔(2) والدہ حیات ہے۔ (3) مرحوم کے والدین فوت ہوچکے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں گھر کے کل 80 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 10 حصے (12.5 فیصد) یعنی 3,37,500 روپےمرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے(17.5 فیصد) یعنی 4,72,500 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے (8.75 فیصد) یعنی 2,36,250 روپےہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×10=80
| بیوی | 4 بیٹیاں | 3 بیٹے |
| 8/1 | عصبہ | |
| 1×10 | 7×10 | |
| 10 | 70 | |
| 10 | 7+7+7+7 | 14+14+14 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved