- فتوی نمبر: 32-109
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہوا ، اس کے ورثاء میں صرف دو غیر شادی شدہ بیٹیاں ہیں ۔ اس کے والدین ، دادا ،دادی اور اہلیہ میں سے کوئی بھی موجود نہیں ہے البتہ اس کے والد کے چچاؤں کے پوتے (میت کے پردادا کے پڑپوتے) موجود ہیں جن کی تعداد 26 ہے۔
سوال یہ ہے کہ زید کی ان دو غیر شادی شدہ بیٹیوں کے ہوتے ہوئے اس کے خاندان کے باقی افراد میراث کا حق رکھتےہیں یا نہیں؟ اگر حق رکھتے ہیں تو کتنا حق رکھتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کل ترکہ کے 78 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی ہر بیٹی کو 26،26 حصے (33.33 فیصد) اور مرحوم کے والد کے چچاؤں کے پوتوں میں سے ہر ایک کو 1،1 حصہ (1.282 فیصد) ملے گا۔
نوٹ: مذکورہ صورت میں اگر میت کے والد کے چچاؤں کے پوتوں کے ساتھ پوتیاں بھی ہوتیں تو بھی ان کو کوئی حصہ نہ ملتا۔
شامی (10/ 551) میں ہے:
العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده….. ثم جزء جده العم) لأبوين ثم لأب ثم ابنه لأبوين ثم لأب (وإن سفل ثم عم الأب ثم ابنه ثم عم الجد ثم ابنه) كذلك وإن سفلا
وفي الشامية: (قوله: وإن سفلا) أي ابن عم الأب وابن عم الجد
ہندیہ(6/451) میں ہے:
وباقى الميراث ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم اربعة أيضا: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق.
السراجی فی المیراث(ص:15) میں ہے:
وأما العصبة بغيره فأربع من النسوة وهن اللاتى فرضهن النصف والثلثان يصرن عصبة باخوتهن كما ذكرنا فى حالاتهن ومن لا فرض لها من الاناث واخوها عصبة لا تصير عصبة باخيها كالعم والعمة
مفید الوارثین(199) میں ہے:
عصبہ درجہ چہارم(باپ کے حقیقی و علاتی چچا کا پوتا)
جب اوپر والے موجود نہ ہوں تو یہ عصبہ ہو کر ذوی الفروض سے باقی ماندہ سب مال لے لیں گے ان میں بھی باہم وہی پہلا فرق ہے کہ حقیقی کے سامنے علاتی محروم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved