- فتوی نمبر: 32-179
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے مرحوم نے ترکہ میں ایک گھر چھوڑا ہے جس کی کل قیمت 47 لاکھ روپے ہے،پراپرٹی ڈیلر کا کمیشن 40 ہزار روپے ہے، بقایا 46 لاکھ 60ہزار روپے بچ گئے۔ ورثا ء میں بیوی، 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ دو بہنوں کا حصہ اس میں سے بڑے بھائی نے خرید لیا تھا ، وراثت میں سے ایک بہن اور والدہ کا حصہ دینا باقی ہے ۔ مذکورہ رقم سے نیا مکان حاجی کیمپ میں 5 مرلہ خریدا گیا۔
مکان کا انتقال بڑے بھائی کے نام 2 مرلہ، باقی 3 بھائیوں کے نام 1،1 مرلہ ہوا ۔
اس میں سے مزید 1 بھائی نے اپنا حصہ بڑے بھائی کو بیچ دیا، نئے انتقال کے مطابق بڑے بھائی کے 3 مرلہ حصہ اور باقی 2 بھائیوں کا 1،1 مرلہ ہے، ماں اور ایک بہن کا پرانے مکان میں سے حصہ نہیں دیا گیا تھا (1)اب اس ایک بہن اور والدہ کا حصہ اس موجودہ گھر کی قیمت کے حساب سے دیا جائے گا یا پرانے گھر کی قیمت کے حساب سے دیا جائے گا؟ (2)اور ان کا کتنا حصہ بنے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)مذکورہ صورت میں والدہ اور بہن کو نئے مکان کی موجودہ قیمت کے حساب سے حصہ دیا جائے گا۔
(2)مذکورہ صورت میں مکان کے کل 88 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 11 حصے (12.5 فیصد) بیوی کو، 14،14 حصے (15.90 فیصد) دو چھوٹے بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو ،7 حصے (7.95 فیصد ) بیٹی کو اور 42 حصے (47.70 فیصد) بڑے بیٹے کو ملیں گے۔
نوٹ: بڑے بیٹے کے حصے میں دو بہنوں سے اور ایک بھائی سے خرید کردہ حصے بھی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved