- فتوی نمبر: 32-154
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مولانا صاحب میرا ایک مسئلہ حل فرما دیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے وراثت میں ایک گھر ملا ہے جس کی مالیت نو لاکھ ہے اب میں نے اس میں سے چار بہنوں کو حصہ دینا ہے میرے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے اور بہنوں کے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے؟ والد صاحب فوت ہو چکے ہیں والدہ حیات ہیں مگر وہ اپنا حصہ لینا نہیں چاہتی۔ رہنمائی فرمادیں ۔
وضاحت مطلوب ہے: (1) کیا یہ گھر آپ کے والد صاحب کا تھا؟ (2) والد کی وفات کے وقت ان کے والدین فوت ہو گئے تھے یا حیات تھے؟
جواب وضاحت:(1) گھر میرے والد صاحب کا تھا ۔ (2) ان کے والدین فوت ہو چکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں گھر کی مالیت کے 6 حصے کیے جائیں گے جن میں سے2 حصے (33.33 فیصد) یعنی تین لاکھ (300000) روپے بیٹے کو دیئے جائیں گے اور ایک، ایک حصہ (16.66 فیصد) یعنی ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ (150000) روپے ہر ایک بیٹی کو دیئے جائیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
6
| 1بیٹا | 4بیٹیاں |
| 2 | 1+1+1+1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved