- فتوی نمبر: 31-298
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرا بھائی مؤرخہ 1983-12-21 کو ایک حادثے میں فوت ہوگیا تھا ، مرحوم بھائی غیر شادی شدہ تھا ، مرحوم بھائی کا 2.5مرلہ کا مکان تھا جس کی رجسٹری کی نقل لف ہے، مکان ہذا کے پلاٹ کی قیمت مبلغ 1800 روپے تھی اورمکان کی تعمیر پر صرف تقریبا 15000 روپے خرچ ہوئے تھے۔ تاریخ وفات پر مکان کی مارکیٹ قیمت تقریبا 25000 روپے تھی۔
مرحوم کے ورثاء میں ایک والدہ، ایک بہن اور ایک بھائی تھا۔ مرحوم کی وفات کے ایک سال بعد والدہ بھی فوت ہوگئی تھی۔ مرحوم کے مکان کی تقسیم پر بہن نے مطالبہ کیا کہ میرے حصے کے عوض مجھے 5 مرلے کا ایک پلاٹ خرید کر دے دیا جائے۔ مرحوم بھائی کے ترکہ سے بہن کو 15000 روپے کا 5 مرلے کا پلاٹ لیکررجسٹری بہن کے نام پر کرواکر دے دیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ:
1۔کیا وراثت کی یہ تقسیم درست تھی؟
2۔کیا بہن کا بھائی کی طرف کوئی بقایا تو نہیں ہے؟
3۔کیا بھائی کا بہن کی طرف کوئی بقایا تو نہیں ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر مذکورہ تحریر سے آپ کی بہن بھی متفق ہے تو :
1۔وراثت کی یہ تقسم درست تھی۔
2۔نہیں۔
3۔نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved